Al-Risala · March 1977 · page 53

دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۳

اشکال اور ظواہر ہیں ۔ مگر مہر جان کار نگار نگ ماحول اور رسمیّات کا اہتمام زبان حال سے کہہ رہا تھا کہ پرجوش مقرر شکلم ، اس نکتۂ خطابت کے لئے حاضرین سے کوئی داد پانے کی امید کر سکتے ہیں۔

جشن سیمین کی تقریبات کی ایک نشست میں مرکزی وزیر پیٹرولیم مسٹر ہیم دتی نندن ہو گنا بھی شریک ہوئے ۔ عربوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم در رحمتہ اللہ وبرکاتہ سے کرتے ہیں۔ مسٹر ہو گنا کی موجودگی میں اس قسم کی متعدد تقریریں ہوئیں۔ بعد کو جب وہ اسٹیج پر آئے تو انھوں نے بھی اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا " السلام علیکم " شری ہو گنا کی زبان سے اسلام علیکم سن کر سارا مجمع جھوم اٹھا اور دیر تک تالیاں بجتی رہیں پھر انھوں نے کہا کہ بھارت اور عربوں کے درمیان کوئی مال دولت کا رشتہ نہیں ہے، یہ ایمان کا رشتہ ہے۔ مال دولت کے رشتے ٹوٹ سکتے ہیں ۔ مگر ایمان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا"۔ اس پر بھی خوب تالیاں بجیں ۔ اگر تالیوں کی کثرت کو دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ مسٹر ہو گنا کی تقریر سب سے زیادہ عوام پسند ثابت ہوئی، کئی عرب ملکوں کے نمائندوں نے اپنی تقریر کے بعد جامعہ دارالسلام کے لئے ڈالر اور پونڈ کے عطیات کا اعلان کیا تھا مسٹر ہو گنا نے کہا کہ ہندوستان ایک غریب ملک ہے، اس لئے میں آپ کی جامعہ کے لئے اس قسم کے کسی عطیہ کا اعلان نہیں کر سکتا۔ البتہ ہم اپنی نیک خواہشات آپ کے لئے پیش کرتے ہیں۔

راقم الحروف نے اس موقع کے لئے ایک مقالہ تیار کیا تھا جس کا عنوان تھا :

دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات

اس مقالہ کو تقریری شکل میں ملخصاً ۷راپریل کی شام کی نشست میں پیش کیا گیا۔ الرسالہ کی پہلی اشاعت میں یہ پورا مقالہ شائع ہو چکا ہے ۔

کئی درجن عرب مہمان جو مختلف ملکوں سے اس مہر جان میں آئے تھے، ان میں سے شاید کوئی مجھ کو شکل سے نہیں پہچانتا تھا۔ مگر غائبانہ طور پر تقریباً سبھی مجھ کو بخوبی جانتے تھے بلکہ میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے ۔ ایک دن شام کو ڈرائنس پر میری کرسی ایک یقینی عرب شیخ احمد عبدہ ناشر کے قریب ہوگئی۔ میں نے ادا سے کہا: ہل سمعت عن الکاتب الہندی بدیع الدین خان اس نے جواب دیا " کیا الاسلام تتحدی کے مولف"۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا، کیا آپ ہی وہ ہیں؟ میں نے مسکرا کر کہا شاید ۔ یہ سنتے ہی وہ بے قرار ہو گیا۔ اس نے کہا، میں نے آپ کی کتاب پڑھی ہے۔ بڑی عظیم کتاب ہے۔ پھر وہ عرب انداز میں مجھ سے اظہار محبت کرنے لگا۔ اس نے اپنے یہاں کے ایک ممتاز عالم کا پتہ دیا اور کہا کہ وہ آپ سے بہت متاثر ہیں، ان سے خط و کتابت کیجئے : الشیخ عبد المجید الزندانی رئیس مکتب التوجیہہ والارشاد العام ص۔ ب۔ ۲۴۹ صنعاء، الجمهورية العربية اليمنية اس کے بعد اس نے قریب کے دوسرے عربوں سے کہا " دیکھو یہاں شیخ وحید الدین ہیں" آپ دوسرے عرب حیرت کے ساتھ مجھ سے ملنے لگے۔

جنوبی ہند کے ایک بزرگ نے میرا نام پوچھا۔ میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page