Al-Risala · March 1977 · page 54

دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۴

نے کہا "عبد اللہ"۔ مگر یہ تو یہ کام نہ آسکا ۔ چند منٹ بعد ہی انھوں نے میرا اصل نام دریافت کر لیا اور اس کے بعد باصرار اپنی رہائش گاہ پر لے گئے ۔ جنوبی ہند کا علاقہ ہر اعتبار سے شمالی ہند سے اتنا مختلف ہے کہ بالکل دوسرا ملک معلوم ہوتا ہے۔ تاہم ان میں کثیر تعداد میری جاننے والی تھی خصوصاً اہل علم تو تقریباً سبھی جانتے تھے ۔ کسی اجتماع میں یہ صورت حال کبھی میرے لئے پسندیدہ نہیں ہوتی ۔ میری گوشہ گیر اور خلوت پسند طبیعت کو قلم نامی سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ مگر یہ قلم بھی شاید ایک فتنہ ہے جو آدمی کو "تنہا" نہیں ہونے دیتا۔ حالاں کہ تنہائی سے زیادہ قیمتی کوئی چیز انسان کیلئے نہیں۔ عمر آباد میں میں نے ایک شخص سے کہا: میرا جی چاہتا ہے کہ میں "قلم" کا مشغلہ ترک کر دوں اور کسی مسجد میں معتکف ہو کر قرآن اور نماز میں مشغول ہو جاؤں۔ انھوں نے کہا، کیا آپ اس بات کو لکھ کر شائع کر سکتے ہیں ۔ میں نے جواب خصوصیت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے ، وہ یہاں کی بے تعصبی ہے۔ یہاں مختلف فرقوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی کش مکش نہیں۔ مذہب کے نام پر جھگڑے کا یہاں کوئی وجود نہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی معاشرت ، شمالی ہند کے برعکس ، یہاں تقریباً ایک ہی قسم کی ہے ۔ اس کی وجہ سے یہاں دونوں فرقوں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ کوئی اس مذہب کو مانتا ہے یا اُس مذہب کو، یہاں اس قسم کے سوالات پر کوئی اپنا دماغ نہیں خراب کرتا ۔

ان حالات نے جنوبی ہند کو دعوت حق کے کام کے لئے ایک آئیڈیل خطہ بنادیا ہے۔ یہاں نہایت عمدہ طور پر وہ کام ہوسکتا ہے جس کے لئے دوسرے مقامات پر طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ مواقع کی اس فراوانی نے مسلمانوں کو کوئی سبق نہیں دیا۔ سارے جنوبی ہند میں ، شمالی ہند ہی کی طرح ، دیا، کیوں نہیں۔ جو بات میرے دل میں ہے، اس کو چھپانے میں مجھ پر کیا عذر ہو سکتا ہے۔

اگرچہ قرآن میں عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اور وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ جیسی آیتیں شامل ہیں۔ مگر ۷۲ برس تک قلم کا تجربہ کرنے کے بعد اب میری آخری تمنا یہ ہے کہ کسی سنسان مسجد میں روپوش ہو جاؤں۔ وہاں گم نامی کی زندگی گزاروں، نماز پڑھوں اور قرآن و حدیث میں مشغول رہوں اور اسی حال میں دنیا سے چلا جاؤں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری یہ تمنا پوری ہو گی یا نہیں۔ کیونکہ دو چیزیں ہر وقت آدمی کا پیچھا کر رہی ہیں۔ ایک، ذمہ داری کا احساس، دوسرے موت۔

شمالی ہند کے ایک مسافر کے لئے جنوبی ہند کی جو کوئی ایک بھی قابل ذکر جماعت نہیں جو دین کو پھیلانے اور دوسری اقوام میں اس کو متعارف کرنے کا کام کر رہی ہو۔ جس خطہ نے ہزار برس پہلے عرب تاجروں کا استقبال دین حق کے مبلغ کی حیثیت سے کیا تھا، آج وہ انہی عربوں کا استقبال اس حیثیت سے کرنے میں مسابقت دکھارہا ہے کہ وہ اپنے "پیٹرو ڈالر" کے خزائن کا کوئی جزو اس کی طرف بھی پھینک دیں۔ آج ہندوستان کے تمام دینی ادارے عربوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی کلمات استغفار کی تلاوت کرتے ہوئے اس مقدس طواف میں مشغول ہے اور کوئی تکلف کو برطرف کرکے سیدھے سیدھے اس سنہری حوض میں داخل ہو جانا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page