Al-Risala · March 1977 · page 55

دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۵

جامعہ دارالسلام کے معتمد عمومی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں یاد دلایا کہ جنوبی سندھ کا خطہ وہ مقام ہے جہاں عرب تاجر سب سے پہلے اترے اور اسلام کو پھیلایا : "آج ہماری چشم تمنا دعا کے ہاتھ پھیلائے منتظر ہے کہ عرب کی ارض مقدس سے پھر کوئی قافلہ تجارت رواں دواں ہوجس کے کچھ انوار و آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں جو اپنے ہمراہ قدرت کے عطا کردہ دنیوی مال تجارت کے ساتھ اخروی تجارت کا سرمایۂ نجات بھی رکھتا ہو اور اس طرح اور ایک بار دکھی انسانیت اسلام کی روحانی و اخلاقی فتوحات کا نظارہ کر سکے اور پوری دنیا اسلام کے نور سے جگمگا اٹھے۔ آمین!"

۲۱ اپریل کو جب کہ میں تامل ناڈو سیر فاسٹ ایکسپریس سے واپس آرہا تھا، چیئر کار میں میری نظر سامنے کی پلیٹ پر پڑی۔ لکھا ہوا تھا:

PLEASE DO NOT PLAY RADIO EXCEPT WITH AN EARPHONE یعنی ریڈیو مت بجائیے۔ اگر بجانا چاہیں تو بالکل آہستہ بجاکر کان کے آلہ کے ذریعہ خود سن لیجئے ۔

تاہم یہ ضابطہ صرف مسافروں کے لئے تھا۔ خود ریلوے کو گویا یہ لائسنس ملا ہوا تھا کہ وہ اپنے اہتمام میں پرشور طور پر ٹیلی وژن چلائے اور اپنے نظام کے تحت بجائے ہوئے ریڈیو کے جب ٹیلی وژن چلتا تو ساری نگاہیں اس کے شیشہ پر لگ جاتیں۔ ایک سردار جی نے گلاس میں شراب کے ساتھ برف اور کو کا کولا ملایا اور لطف لے کر پینے لگے۔ کچھ لوگ اپنے بیوی بچوں میں مشغول تھے اور کچھ کھانے پینے میں۔ کچھ تاش کے ذریعہ وقت گزاری کر رہا تھا۔ کوئی ناول اور افسانہ کا مطالعہ کر رہا تھا۔ ایک طرف بند ڈبہ کے اندر یہ مشاغل جاری تھے۔ دوسری طرف ڈبہ کے باہر قدرت کی دنیا اپنی ساری رعنایوں کے ساتھ موجود تھی۔ سپر فاسٹ ایکسپریس ہندوستان کے سر سبز میدانوں اور پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے گویا فطرت کی لامتناہی ریل ہمارے سامنے کھول رہی تھی۔ ہرے بھرے درختوں کے سلسلے، پھیلا ہوا آسمان، بادلوں کے آفاقی مناظر، سورج کی ضیا پاشیاں، یہ ساری چیزیں ایک عظیم کائناتی شو کی طرح مسلسل آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ زندگی، عظمت، حسن اور معنویت کی جو اتھاہ کہانی اس خاموش کائناتی ٹیلی وژن سے نشر ہو رہی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مگر مسافروں کو ڈبے کے اندر کے کھلونوں سے فرصت نہیں تھی کہ وہ باہر کی عالمی رونقوں کو دیکھ سکیں۔ ہر ایک نے اپنے قریب ایک مشغلہ تلاش کر لیا تھا اور اسی میں وہ مشغول تھا۔ میں نے سوچا: لوگ کہتے ہیں کہ خدا ہے تو وہ ہم کو نظر کیوں نہیں آتا۔ وہ لوگ جو سامنے کی کثیف کائنات کو دیکھنے کی نگاہ بھی کے تھے پردوں پر جور رہتے۔ ایر کنڈیشنڈ بوگی ہمارے اور باہر کے شور کے درمیان حائل تھی مسافروں کے ممکنہ شور سے بھی ہم بچے ہوئے تھے، مگر ریلوے کے اوپر کون قدغن لگا سکتا تھا جو "نوائز پلیوشن" کا لامحدود حق اپنے لئے محفوظ کئے ہوئے تھی۔ اگر لوگ اپنے لئے بھی وہی پسند کرنے لگیں جس یہ رہتے ہوں، دُعا اس سے بے پناہ تیف خدا کی ہی کا مشاہدہ کس طرح کر سکتے ہیں۔ خالق کو دیکھنے کے لئے مخلوق کو دیکھنے کی نظر پیدا کرنی پڑتی ہے۔ جو مخلوق کو نہ دیکھ سکے، وہ خدا کو بھی نہیں دیکھ سکتا۔ خالق نے اپنی صنعت کا شاہکار ہمارے سامنے رکھ دیا ہے جو لوگ اس کی بے قدری کریں کی تلقین وہ دوسروں کو کرتے ہیں تو دنیا کے کم از کم آدھے مسئلے یک لخت حل ہو جائیں۔

وہ جیسے توقع کرتے ہیں کہ خدا اپنی تجلیات لوان کے اوپر ظاہر کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page