Al-Risala · September 1977 · page 4

نبوت محمدی: انسانیت پر ایک عظیم احسان

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴

نبوت محمدی: انسانیت پر ایک عظیم احسان

بعثت کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ کسی عرب قبیلہ کا ایک شخص کعبہ کی زیارت کے لئے مکہ آیا، وہ جب واپس گیا تو اس کے قبیلہ والوں نے پوچھا، مکہ کی کوئی خبر سناؤ۔ اس نے جواب دیا :

محمدؐ نبتا د تبعہ ابن ابی قحافة

محمد نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور ابو قحافہ کا لڑکا ان کا ساتھ دے رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 610ء میں جب آپ نے نبوت کا اعلان فرمایا اس وقت لوگوں کے ذہن میں آپ کی تصویر کیا تھی۔ آپ کے مخالفین اس زمانہ میں آپ کو ابن ابی کبشہ کہتے تھے، جس کا مطلب ہوتا تھا : فلاں دیہاتی کا لڑکا۔ کوئی زیادہ شریف زبان بولنا چاہتا کہتا: فتی من قریش، یعنی قبیلہ قریش کا ایک جوان ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال اپنے زمانہ میں تھا۔ مگر صدیاں گزرنے کے بعد اب صورت حال بالکل مختلف ہے۔ کیوں کہ اب آپ کی نبوت کوئی نزاعی مسلمہ نہیں۔ اب وہ ایک تسلیم شدہ واقعہ (ESTABLISHED FACT) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ آج جب ایک شخص کہتا ہے "محمد رسول اللہ"، تو اس کے ذہن میں ایک پیغمبر کا تصور ہوتا ہے جس کے گرد ایک عظیم الشان تاریخ بن چکی ہے، جس کی پشت پر ڈیڑھ ہزار برس کی تصدیقی عظمتیں قائم ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ یہ تاریخ مکمل طور پر آپ سے الگ کر دی جائے اور نبی عربی دوبارہ " ابن ابی کبشہ " کی صورت میں ظاہر ہوں تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ آپ پر ایمان لانے والوں کی تعداد جو آج کروڑوں میں گنی جاتی ہے، صرف درجنوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی ۔ ۔ " ابن ابی کبشہ " کے حلیہ میں رسول خدا کو پہچان لینا انتہائی مشکل کام ہے ۔ جب کہ یہی کام اس وقت انتہائی آسان ہو جاتا ہے جب رسول ایک مسئلہ تاریخی حیثیت یا قرآن کے لفظوں میں مقام محمود (اسرار ۔ 74) کا درجہ حاصل کر چکا ہو۔

پچھلے ادوار میں نبیوں کے ہم زمانہ لوگوں کے لئے نبی کا انکار کرنے کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ یہی تھی ۔ یہ تو وہی معمولی شخص ہے جس کو اب تک ہم فلاں بن فلاں کے نام سے جانتے تھے، وہ اچانک خدا کا پیغمبر کیسے ہو گیا" جب بھی کوئی نئی اٹھتا، یہ خیال ایک قسم کا شک اور تردید بن کر ان کے اوپر چھا جاتا، اور نبی کی پیغمبرانہ حیثیت کو پہچاننے کے معاملہ کو اس کے معاصرین کے لئے مشکل بنا دیتا۔

یہ صورت حال، خاتم النبین کے ظہور سے پہلے، انسانیت کو مسلسل ایک کڑی آزمائش میں مبتلا کئے ہوئے تھی۔ ہر بار ان کے اندر سے ایک نیا شخص خدا کے رسول کی حیثیت سے اٹھتا۔ مخاطب قوم کی اکثریت، مذکورہ نفسیاتی رکاوٹ کی وجہ سے، اپنے ہم عصر نبی کے بارے میں شک اور تردید میں پڑ کر انکار کر دیتی اور بالآخر سنت اللہ کے مطابق ہلاک کر دی جاتی۔ اب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک ایسا نبی بھیجے جو ساری دنیا کے لئے رحمت کا دروازہ کھول دے۔ اس کی ذات پچھلے پیغمبروں کی طرح لوگوں کو اس آزمائش میں نہ ڈالے کہ معلوم نہیں یہ واقعی پیغمبر ہے یا شخصی حوصلہ مندی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page