محمدؐ نبتا د تبعہ ابن ابی قحافة
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۵
نے اس کو اس قسم کے دعوے پر آماوہ کر دیا ہے۔ ‘‘ اس کی نبوت ہر دور کے لوگوں کے لئے ایک مسلمہ واقعہ کی حیثیت رکھتی ہو۔ لوگ کسی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کی محمودیت‘‘ کی وجہ سے اس کو پہچان لیں اور اس پر ایمان لاکر خدا کی رحمتوں میں حصہ دار بنیں۔
متعدد روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے افراد تمام دوسرے انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوں گے۔ اس کا تعلق بھی اسی مسئلہ سے ہے۔ آپ کے بعد چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں۔ اس لئے آپ کی امت میں آپ کے بعد دوبارہ کفر و اسلام کا مسئلہ کھڑا ہونے والا نہیں ہے۔ آپ کی امت بدستور بڑھتی رہے گی، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔
اس معاملہ کو بنی اسرائیل کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ حضرت مسیح کے زمانہ میں جو یہودی تھے، وہ سب خدا کی شریعت پر ایمان رکھتے تھے وہ حضرت موسیٰ کے امتی تھے۔ مگر ابن مریم کی نبوت میں جب ان کے اندر ایک نیا نبی اٹھا تو اس کو ماننا یہود کے لئے ممکن نہ ہوسکا۔ حضرت موسیٰ کو وہ اب بھی مانتے تھے۔ مگر اپنے ہم عصر نبی کا انکار کر رہے تھے۔ اس کی وجہ سے، ایک درجن مومنین مسیح کو چھوڑ کر، سارے کے سارے یہودی کا فر قرار پاگئے ۔ حضرت مسیح کے چھ سو برس بعد جب نبی عربی کی بعثت ہوئی تو مسلمانوں کی اس نئی جماعت (عیسائیوں) کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی۔ مگر دوبارہ وہی ہوا کہ نئے اسماعیلی نبی کو ماننے کے لئے وہ اپنے کو آمادہ نہ کر سکے۔ وہ تاریخی نبی (حضرت مسیح) پر بدستور ایمان رکھتے تھے۔ مگر اپنے ہم عصر نبی (حضرت محمد) کے منکر تھے۔ اس کی وجہ سے دوبارہ ایسا ہوا کہ صورت محمدی پر ایمان لانے والے چند عیسائیوں کو چھوڑ کر پوری عیسائی قوم کو کافر قرار دے دیا گیا۔
ختم نبوت کی وجہ سے امت محمدی میں اس قسم کی چھٹنی، کم از کم موجودہ دنیا میں، دوبارہ ہونے والی نہیں۔ اس لئے آپ کے امتیوں کی تعداد بھی دوسرے انبیاء کے پیروؤں سے زیادہ رہے گی —— یہ بھی ایک پہلو ہے آپ کے رحمتہ للعالمین ہونے کا جو اس لئے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقام محمد و پر کھڑا کیا۔ مقام محمود دنیوی اعتبار سے یہ ہے کہ آپ کی نبوت کو ساری دنیا کے لئے ایک تاریخی مسئلہ بنا دیا گیا، یہی تعریفی حیثیت قیامت کے دن خصوصی خداوندی اعزاز کی صورت میں ظاہر ہوگی جو اولین و آخرین میں آپ کے سوا کسی کو حاصل نہ ہوگی۔ مگر کسی نبی کو مقام محمود پر کھڑا کرنا سادہ طور پر محض نامزدگی کا معاملہ نہ تھا۔ یہ ایک نئی تاریخ کو ظہور میں لانے کا معاملہ تھا۔ اس کے لئے ایک طرف ایسی معیاری شخصیت درکار تھی جیسی کوئی دوسری شخصیت بنی آدم میں پیدا نہ ہوئی ہو، دوسری طرف ایسی قربانی اور حوالگی درکار تھی جیسی قربانی دعوالگی کا ثبوت کسی دوسرے انسان نے نہ دیا ہو۔ یہی وہ نازک لمحہ تھا جب کہ خدا نے اپنے ایک بندے کو پکار کر کہا: یَا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ ۔ ۔۔ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ۔ اور کس میں لپٹی ہوئی اس عظیم روح نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ہمہ تن خدائی منصوبے کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد طویل عمل کے نتیجہ میں بالاخر دہ نبوت ظہور میں آئی جو سارے عالم کے لئے رحمت بن گئی۔ جس نے انسانی تاریخ میں بار بار نئے نبیوں کی آمد کے آزمائشی دور کو ختم کیا اور ایک مسئلہ نبوت کے دور کا آغاز کر کے لوگوں کے لئے خدا کی رحمتوں میں فوج در فوج
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues