محمدؐ نبتا د تبعہ ابن ابی قحافة
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۶
داخل ہونے کا دروازہ کھول دیا۔
نبوت کو تاریخی مسلمہ بنانے کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ آئندہ کے لئے نبیوں کی آمد کا سلسلہ بند ہو جائے۔ مگر یہ بھی محض اعلان کا معاملہ نہ تھا۔ ختم نبوت سے پہلے ضروری تھا کہ چند شرائط لازمی طور پر پوری ہو چکی ہوں : ۱۔ زندگی کے تمام معاملات کے لئے احکام خدا وندی کا نزول (اَلْيَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِيْنَکُمْ) ۲۔ انسانی کردار کے لئے ایک کامل نمونہ سامنے آجانا (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُوْلِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةً) ۳۔ وحی الہی کی دائمی حفاظت کا انتظام (نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ) اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک فیصلے کے ذریعہ ان تینوں شرائط کی تکمیل کا انتظام فرما دیا۔ پچھلے نبیوں کے لئے اللہ کی سنت یہ رہی ہے کہ ہر نبی کو کچھ آیات (معجزے) دیئے جاتے تھے۔ نبی اپنی مخاطب قوم میں تبلیغ و دعوت کا فریضہ آخری حد تک ادا کرتا۔ وہ غیر معمولی نشانیوں کے ذریعہ اپنے نمائندہ الہی ہونے کا ثبوت پیش کرتا۔ اس کے باوجود جب لوگ ایمان نہ لاتے تو نبی کا کام ختم ہو جاتا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فرشتے متحرک ہوتے اور زمینی یا آسمانی عذاب کے ذریعہ اس قوم کو ہلاک کر دیتے ۔
نبی آخر الزماں کے لئے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہوا کہ آپ کی مخاطب قوم کے لئے اس قسم کا عذاب نہیں آئے گا۔ بلکہ خود نبی اور آپ کے اصحاب کو ان سے ٹکرا کر انہیں مجبور کیا جائے گا کہ وہ دین خداوندی کو قبول کریں (تقاتلوتهم ویسلمون) اس کے باوجود ان میں سے جو لوگ اطاعت نہ کریں وہ اہل ایمان کی تلواروں سے قتل کر دیئے جائیں (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس سے پہلے جو کام فرشتے کرتے تھے، اس کو انسانوں کے ذریعہ انجام دیا جائے۔
اسی فیصلے الہی کا نتیجہ تھا کہ ہجرت اور اتمام حجت کے بعد، دیگر انبیاء کی قوموں کے برعکس، اہل عرب پر کوئی جوالامکھی پہاڑ نہیں پھٹا اور نہ آسمان سے آگ برسی۔ بلکہ رسول اور اصحاب رسول کو ان کے ساتھ ٹکرا دیا گیا۔ اس فوجی تصادم میں اللہ کی خصوصی نصرت کے ذریعہ رسول اور آپ کے اصحاب کو فتح حاصل ہوئی، خدا کا دین ایک باقاعدہ اسٹیٹ کی شکل میں جزیرہ نمائے عرب پر قائم ہو گیا۔
اس واقعہ کے مختلف نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ دعوت نبوت کو انفرادی تقاضوں سے لے کر اجتماعی معاملاتی تک، زندگی کے تمام مراحل سے گزرنا پڑا اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لئے مسلسل احکام اترتے رہے۔ اگر یہ واقعات پیش نہ آتے تو اسلامی شریعت میں ہر قسم کے احکام نہیں اتر سکتے تھے کیونکہ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ حالات کے لحاظ سے اپنے احکام بھیجتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کتابی مجموعہ کی شکل میں بیک وقت سارے احکام لکھ کر نبی کو دے دیئے جائیں۔ فرشتوں کے ذریعہ منکرین عرب کا استیصال کرنے کے بجائے اہل ایمان کی تلوار کے ذریعہ ان کو زیر کرنے کے فیصلے نے دین کی تکمیل کے اسباب پیدا کر دیئے۔
پھر اسی کی وجہ سے یہ امکان پیدا ہوا کہ پیغمبر کا سابقہ زندگی کی تمام صورتوں سے پیش آئے۔ اور ہر قسم کی
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues