Al-Risala · September 1977 · page 7

محمدؐ نبتا د تبعہ ابن ابی قحافة

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۷

سرگرمیوں میں وہ اسلامی کردار کا عملی نمونہ دکھا سکے۔ اس کے بعد خود حالات کے ارتقاء کے تحت ایسا ہوا کہ نبی کو مسجد اور مکان سے لے کر میدان جنگ اور تخت حکومت تک ہر جگہ کھڑا ہونا پڑا اور ہر جگہ اس نے معیاری انسانی کردار کا مظاہرہ کر کے قیامت تک کے لوگوں کے لیے نمونہ قائم کر دیا۔

پھر اسی واقعہ نے قرآن کی حفاظت کی صورتیں بھی پیدا کیں۔ پچھلی آسمانی کتابیں جو محفوظ نہ رہ سکیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی کے بعد ان کتابوں کی پشت پر کوئی ایسی طاقت نہ رہی جو بروئے کار اور ان کو ضائع ہونے سے بچاتی۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے اپنی ہم عصر قوموں سے مقابلہ کر کے اولاً عرب اور اس کے بعد قدیم دنیا کے بڑے حصہ پر اسلام کا غلبہ قائم کر دیا۔ اس طرح کتاب الہی کو حکومتی اقتدار کا سایہ حاصل ہو گیا جو خدا کی کتاب کو محفوظ رکھنے کی یقینی ضمانت تھا۔ یہ انتظام اتنا طاقت ور تھا کہ ایک ہزار برس تک اس میں کوئی فرق نہ آسکا۔ اسلامی اقتدار کے زیر سایہ قرآن ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا رہا۔ یہاں تک کہ صنعتی انقلاب ہوا اور پریس کا دور آگیا جس کے بعد قرآن کے ضائع ہونے کا کوئی سوال نہیں۔

یہ سب جو ہوا ، اس طرح ٹھنڈے ٹھنڈے نہیں ہو گیا جیسے آج ہم اس کو سیرت و تاریخ کی کتابوں میں پڑھ لیتے ہیں۔ اس کے لئے نبی اور آپ کے ساتھیوں کو ناقابل برداشت طوفان سے گزرنا پڑا۔ کفار کے مطالبہ اور نبی کی خواہش کے باوجود ان کو فوق الفطری معجزے نہیں دیئے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں اپنے اخلاق و کردار کو معجزاتی واقعات کا بدل بنانا پڑا۔ ان کے مکذبین کے لیے کوئی ارضی و سماوی عذاب نہیں آیا۔ اس طرح کی اور ہیں وہ کام کرنا پڑا جس کے لئے پہلے بھونچال آتے تھے اور آتش فشاں پھٹتے تھے ۔ ختم نبوت کے فیصلہ کے باوجود کتاب الہی کو یکبارگی ان کے حوالے نہیں کیا گیا ۔ اس لئے ان کے واسطے ضروری ہو گیا کہ وہ زندگی کے وسیع سمندروں میں کو دیں اورہرقسم کی چٹانوں سے ٹکرائیں تاکہ تمام معاملات زندگی کے بارے میں ان پر احکام الہی کا نزول ہو سکے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس پورے عمل کے دوران نبی اور آپ کے اصحاب امتحان کے اس انتہائی کڑے معیار پر تھے جس کو قرآن میں زلزال شدید ( احزاب ۔ ۱۱ ) کہا گیا ہے۔ نبی کو سخت ترین حکم تھا کہ ظالموں کی طرف ادنی جھکاؤ بھی مت دکھاؤ ( اسراء - ۵۷) در نہ تم کو دگنی سزا دی جائے گی ۔ حالات خواہ کتنے ہی شدید ہوں، آپ کے ساتھیوں کے لئے کسی بھی حال میں تخلف ( توبہ - (۱۱۹) کی اجازت نہ تھی۔ آپ کی ازواج اگر دو وقت کی روٹی کا بھی مطالبہ کریں تو ان کے لئے یہ صاف جواب تھا کہ پیغمبر کی صحبت اور دنیا میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر لو ( احزاب - ۲۸) حقیقت یہ ہے کہ نبوت محمدی کو بروئے کار لانا انسانی تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ تھا۔ اور یہ سب کچھ اتنی قیامت خیز سطح پر ہوا کہ خود رسول کی زبان سے نکلا کہ " اس راہ میں مجھ کو اتنا ستایا گیا جتنا کسی دوسرے نبی کو نہیں ستایا گیا "۔ آپ کی رفیقہ حیات نے شہادت دی کہ لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا (حین حطماء الناس) خاتم النبین اور آپ کے ساتھیوں نے دنیا کا آرام تو در کنار زندگی کی ناگزیر ضرورتوں سے بھی اپنے کو محروم کر لیا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوسکا کہ تاریخ میں اس نبوت کا دور شروع ہو جس کو رحمتہ للعالمین کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page