محمدؐ نبتا د تبعہ ابن ابی قحافة
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۸
نبی عربی کا آپ کے بعد آنے والی نسلوں پر یہی وہ احسانِ عظیم ہے جس کی وجہ سے دائمی طور پر آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاریخ کے اس مشکل ترین مشن میں چونکہ آپ کے اہل خاندان نے آپ کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور آپ کے اصحاب اس صبر آز ما جد و جہد میں پوری طرح صادق القول اور صابر العمل ثابت ہوئے، اس لئے رسول کے ساتھ آپ کے آل اور آپ کے اصحاب کے لئے بھی رحمت اور سلام بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے اوپر احسان کرے تو انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس پر شکر کا اظہار کیا جائے، درود و سلام اسی قسم کے ایک عظیم ترین احسان کا دعا کی شکل میں اعتراف ہے۔ حدیث میں ہے: البخيل من ذكرت عنده فلم يصلّ علی (نسائی، ترمذی) اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلِّمْ سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے ۔ " خدا تم کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔ " پیغمبرِ اسلام کے بارے میں یہ خداوندی اطلاع مکی دور کے آخری سال نازل ہوئی ۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ آپ کی مظلومیت اور بے سروسامانی اپنی آخری انتہا کو پہنچ گئی تھی ۔ حتیٰ کہ آپ کے مخالفین آپ کے قتل کی تدبیریں کرنے لگے تھے ۔ آپ کو محمد (تعریف کیا ہوا) کے بجائے مذم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے ۔
اس وقت خبر دی گئی کہ مخالفین اسلام اپنے وقتی اقتدار سے خوش نہ ہوں ۔ محمد بن عبداللہ کا معاملہ کوئی انسانی معاملہ نہیں۔ یہ تمام تر خدائی معاملہ ہے۔ خدا ہر حال اپنے منصوبے کو پورا کر کے رہے گا، خواہ منکرین اس کے خلاف کتنی ہی کوششیں کر ڈالیں ۔ نبی عربی کے ساتھ یہ نہیں ہونا ہے کہ وہ گم نامی کے ساتھ اس دنیا سے چلے جائیں، جیسا کہ اکثر نبیوں کے ساتھ ہوا۔ خدا اپنے نبی کو مکہ سے نکال کر یثرب لے جائے گا اور وہاں اس کے لئے مرکز فراہم کرے گا۔ اس کو اقتدار عطا فرمائے گا جس کے ذریعہ سے وہ باطل کو شکست دے گا۔ مخصوص خدائی مصالح کے تحت ان کو اس حد تک کامیاب بنانا ہے کہ وہ محمود خلائق ہو جائیں، ان کو مدہم کہنے والے بہت جلد اپنی زندگی ہی میں ان کو حقیقی معنوں میں محمد اور محمود بنتے ہوئے دیکھیں گے ۔ ۔۔ نبی عربی کے بارے میں خدا کا یہ منصوبہ مکمل طور پر پورا ہوا ۔ حتیٰ کہ وہ اس قابل ہو سکے کہ دین خداوندی کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ وجود میں لاسکیں ۔
خدا کے رسول جس طرح دنیا میں لوگوں کے درمیان محمود و محمد روح قرار پائے ، اسی طرح میدانِ حشر میں بھی وہ لوگوں کے درمیان مقام محمود پر فائز ہوں گے۔ محمودیت کے اس آخری اور کامل اظہار کا نام مقام شفاعت ہے ۔ دنیا میں آپ کے ذریعہ انسانیت کو ایک عظیم امتحان سے نجات ملی ۔ آخرت میں بھی اللہ آپ کے وسیلہ سے لوگوں کو حشر کی ہولناک آزمائش سے نکالے گا اور بلاشبہ یہ ایک ایسا اعزاز ہوگا جو اولین و آخرین میں کسی کو حاصل نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues