Al-Risala · September 1977 · page 9

خارجی ہدایت کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۹

خارجی ہدایت کی ضرورت

انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ مگر اس کو نہیں معلوم کہ وہ اپنی آزادی کو کس طرح استعمال کرے ۔ کائنات کی غیر ذی روح اشیاء قانونِ فطرت کے تحت اپنا عمل کر رہی ہیں اور ذی روح اشیاء جبلت کے تحت۔ ساری معلوم دنیا میں یہ صرف انسان ہے جس کو اپنی زندگی کا نقشہ خود بنانا ہوتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ انسان ، اپنی ساری اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود یہ نہیں جانتا کہ اپنی زندگی کا نقشہ کس طرح بنائے۔ ایک انتہائی مکمل کائنات کے اندر انسان ایک نامکمل وجود ہے۔

کائنات میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ایسی نہیں جو بقیہ کائنات سے الگ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بنانے کے لیے پوری کائنات کا علم درکار ہے۔ انسان اس عظیم کائنات کا محض ایک جزوی حصہ ہے مگر اس جزو کو سمجھنا بھی اسی وقت ممکن ہے جب کہ کل کے بارے میں ہم کو پورا علم حاصل ہو چکا ہو۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان کسی بھی زمانہ میں اس قابل نہ ہو سکا کہ وہ حقائق عالم کا احاطہ کر لے۔ اور اب تو سائنس نے ایک قدم آگے بڑھ کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اپنی محدود صلاحیتوں کی بنا پر انسان کے لیے اس قسم کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔ پانی کا راستہ زمین کے نشیب و فراز سے بن جاتا ہے۔ جانوروں کو ان کی جبلت ایک متعین راہ پر چلاتی رہتی ہے۔ بالفرض ایسا نہ ہو، جب بھی ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ پانی یا جانور فطری طور پر صحیح اور غلط کے احساس سے خالی ہیں۔ ان کی دنیا میں وہی ٹھیک ہے جو بالفعل وقوع میں آجائے۔ اس کے برعکس انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ صحیح و غلط ، بالفاظ دیگر اخلاقی احساس اس کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے آپ کو اس سے جدا نہیں کر سکتا۔ مگر آدمی جب اپنے اخلاقی احساس کو خارجی طور پر متعین کرنا چاہتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ انسان اپنے موجودہ حواس کے تحت کسی ایسی ہی چیز کو قطعیّت کے ساتھ جان سکتا ہے جو ہماری نسبت سے اپنا کوئی معروضی مقام (OBJECTIVE (STATUS رکھتی ہو۔ جب کہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں معروضی اقدار (OBJECTIVE VALUES) کا کوئی وجود نہیں۔

انسان اپنی زندگی کی تشکیل کے لیے جو بھی قدم اٹھاتا ہے، فوراً دو سوال اس کے سامنے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page