Al-Risala · September 1977 · page 10

خارجی ہدایت کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰

آکر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کے عمل کا نقطہ آغاز (STARTING POINT) کیا ہو، اور یہ کہ اس کے عمل کی حدود (LIMITATIONS) کیا ہیں ۔ ان دونوں سوالات کے جواب پر ہی اس کے عمل کی صحت موقوف ہے۔ مگر انسان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں جس سے وہ ان دونوں سوالات کا ٹھیک ٹھیک جواب معلوم کرسکے۔

مثال کے طور پر عورت مرد کے باہمی تعلق کے مسئلہ کو لیجیے ۔ دور جدید کے انسان نے اس معاملہ کا نقطہ آغاز دونوں جنسوں کے درمیان کلی مساوات کو سمجھا۔ مگر طویل تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں ایسی حیاتیاتی اور نفسیاتی رکاوٹیں ہیں کہ موجودہ نظام تخلیق کے باقی رہتے ہوئے دونوں کے درمیان کلی مساوات ممکن ہی نہیں۔ اس طرح غلط نقطہ آغاز سے چلنے کی وجہ سے نہ صرف بیشمار انسانی وسائل ضائع ہو گئے بلکہ ایسے نئے نئے سماجی اور خاندانی مسئلے پیدا ہو گئے جن کا کوئی حل اب انسان کی سمجھ میں نہیں آتا۔

اسی طرح اٹھارویں صدی میں مشینی طاقت کی دریافت کے بعد جب جدید صنعتی نظام وجود میں آیا تو لوگوں نے دیکھا کہ کارخانہ کی ملکیت اب سادہ معنوں میں صرف ملکیت نہیں رہی بلکہ اقتصادی استحصال کے ہم معنی ہوگئی ہے۔ اس سے روایتی افکار کے خلاف بغاوت پیدا ہوئی، جو بالآخر یہاں تک پہنچی کہ خود انفرادی ملکیت ہی کو سرے سے منسوخ کر دیا گیا۔ تاہم آباد دنیا کے تقریبا نصف حصہ پر آدھی صدی تک تجربہ کرنے کے بعد آخری بات جو انسان کو معلوم ہوئی وہ یہ کہ تنسیخ ملکیت محض ردعمل کے جذبات کے تحت ایک انتہا پسندانہ کاروائی تھی جس نے دوسرا شدید استحصال نظام وجود میں لانے کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کیا۔ اب تمام دنیا کے اہل فکر یہ سوچنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ شاید زیادہ صحیح بات یہ تھی کہ ملکیتوں کی تنسیخ کے بجائے استحصال کی تنسیخ کی جاتی۔ ایک اور مسئلہ ہے جو مذکورہ بالا دونوں مسئلوں سے بھی زیادہ اہم ہے۔ تمام دوسرے حیوانات کے مقابلہ میں انسان کے اندر ایک حیرت انگیز داعیہ یہ ہے کہ وہ کل (TOMORROW) کا تصور رکھتا ہے وہ صرف ”آج“ پر قانع نہیں۔ اسی کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری موجودہ زندگی انتہائی مختصر ہے اور اس کی خوشیاں اور کامیابیاں بے حد معمولی ہیں۔ جب ہم وہ سب کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں تو موت کا وقت قریب آ جاتا ہے۔ حالیہ دور میں تکنیکی انقلاب کے بعد جب انسان نے دیکھا کہ اس کے عیش و راحت کے ایسے دروازے کھل گئے ہیں جو پچھلے انسان نے خواب میں بھی نہ دیکھے تھے تو سمجھ لیا گیا کہ بس یہی موجودہ زندگی ہی سب کچھ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page