Al-Risala · September 1977 · page 11

خارجی ہدایت کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱

اور یہاں عزت اور خوشی حاصل کر لینا ہی انسان کی اصل کامیابی ہے۔ مگر انسان ایک صدی بھی اس نئے امکان سے محفوظ نہ ہو سکا تھا کہ نئے نئے مسائل مثلاً صنعت کی پیدا کردہ کثافت (INDUSTRIAL POLLUTION) نے اس کی زندگی کو بالکل تلخ کر دیا۔ ایک طرف اینٹی سائنس تحریک مختلف شکلوں میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ دوسری طرف نفسیاتی تحقیقات نے یہ ثابت کرنا شروع کیا کہ زندگی ایک ایسا مظہر ہے جو جسمانی موت کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتا ہے حتی کہ علم الموت (THANATOLOGY) کے نام سے سائنس کی ایک نئی شاخ وجود میں آگئی ہے جو اس امکان کی تحقیق میں سرگرم ہے کہ کیا موت اور زندگی دونوں ایک دوسرے کے حصے (PART) ہیں۔ ان واقعات نے دوبارہ انسان کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے لیے کسی صحیح تر فلسفہ حیات کی تلاش کرے۔

اوپر جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا گیا، اس کی صرف دو توجیہہیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ انسان ایک مکمل کائنات کے اندر ایک نامکمل وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایسے کائناتی تضاد کی علامت ہے جس کا کوئی حل معلوم دنیا کے اندر ممکن نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس تضاد کا بھی حل ہے یا کم از ہو سکتا ہے۔ تجرباتی علوم کے پاس دونوں توجیہات میں سے کسی کے حق میں کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم عقلی قیاس یہ کہتا ہے کہ دوسری توجیہ کو صحیح ہونا چاہیے کیونکہ یہ عظیم کائنات جس طرح قانون فطرت اور جبلت کے تحت انتہائی منظم طور پر چل رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات نا قابلِ قیاس معلوم ہوتی ہے کہ اس سے کمتر درجہ کے ایک سوال کا جواب اس کے پاس نہ ہو۔ جو تخلیقی قوت عالمِ افلاک کے مہیب نظام کو گردش دے رہی ہے اور ذی روح اشیاء کی انتہائی پیچیدہ زندگی کو پوری کامیابی کے ساتھ بروئے کار لانے میں مصروف ہے، وہ اس کے مقابلہ میں ایک بہت چھوٹے مسئلہ کا حل اپنے پاس نہ رکھتی ہو، یہ کسی طرح قابلِ فہم نظر نہیں آتا۔ انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ بطور خود اپنا فلسفہ حیات دریافت کر سکے مگر خارجی قرائن کہتے ہیں کہ کائنات میں اس انسانی طلب کا انتظام ہونا چاہیے، جس طرح دوسری بے شمار ضرورتوں کا مکمل انتظام اس کے اندر موجود ہے۔

یہ واقعہ انسان کے لیے خارجی ہدایت کی ضرورت ثابت کرتا ہے اور خارجی ہدایت ہی کا دوسرا نام وحی والہام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page