فطرت میں توازن کا اصول
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲
فطرت میں توازن کا اصول
زمین کی رنگا رنگ اور متنوع شکل بڑی حد تک ان حشرات الارض، نباتات اور حیوانات کی پیدا کردہ ہے جو اس کی بے جان چٹانوں اور گیسوں کو لا تعداد قسم کے پیچیدہ مرکبات میں لگا تار تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو فطرت کے کام میں خلل اندازی کرکے اکثر تباہ کن حالات پیدا کر دیتا ہیں۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ کس طرح زراعت اور صنعت کی بد انتظامی سے توازن فطرت میں بگاڑ رونما ہوا ہے۔ جون 1972ء میں اسٹاک ہوم میں انسانی ماحول سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایسے عالمی طریق کار وضع کئے جائیں جن سے انسان کی ارضی بد انتظامی سے پیدا ہونے والے ماحولی نقائص کا انسداد ممکن ہو سکے ۔ ڈاکٹر بیری کا مزنے توازن فطرت سے متعلق اپنے چوتھے قانون کو ان لفظوں میں بیان کیا ہے : ”فطرت کی دانش افضل ترین ہے “ جب ماحول کو جوں کا توں چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے آپ ایک متوازن حالت پر آنے لگتے ہیں۔ ایسے متوازن حالات میں قدرت کے تمام فضلات پھر نئے سرے سے فطرت کی گردش میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر درختوں کے سوکھے پتے اور ٹہنیاں حشرات الارض کے کام آتی ہیں جو ان کے عناصر ترکیبی کو معدنی و مرکباتی غذاؤں کی شکل میں زمین کو واپس کرتے ہیں اور ان مرکبات کے سہارے اس جنگل میں مزید نباتات اگتی جاتی ہے۔ اس طرح وہاں توازن فطرت کا نظام برقرار رہتا ہے۔ کچھ جانوروں جیسے لیمنگ، چھچھوندر اور خرگوش کی تعداد میں بار بار جو اچانک بھاری کمی ہوتی ہے، اس کا سبب بھی یہی قدرتی عمل ہے جس کے ذریعہ کھلی فطرت میں جانداروں کی تعداد پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ متعلقہ جانوروں کی آبادی اور مقامی وسائل کے درمیان پھر سے توازن قائم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ انسان جب تیل، کوئلہ وغیرہ کو نکال کر جلاتا ہے تو وہ بھی گویا اس گردش کو مکمل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کیونکہ اس طرح وہ ان ایندھنوں کے کاربن اور دیگر معدنیات کو پودوں کی نشوونما کے لئے پھر سے مہیا کرتا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسان اپنی مختلف سرگرمیوں کے دوران جو فضلات پیدا کرتا تھا، قدرت ان کو ری سائیکل کر کے دوبارہ ان کو مفید شکل میں تبدیل کر دیتی تھی۔ مشینی صنعت کے دور میں پہلی بار یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے کہ انسان ایسے کیمیاوی مرکبات وجود میں لا رہا ہے جن کو ری سائیکل کرنے کا انتظام قدرت کے ڈھانچہ میں نہیں۔ چنانچہ دورِ جدید کے ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ انسان کو اگر اس زمین پر صحت و عافیت کے ساتھ رہنا ہے تو اس کو اپنی عادتوں میں تبدیلی کرنی پڑے گی۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسان اس زمین پر آزاد اور خود مختار نہیں ہے۔ وہ خدا کا بندہ ہے۔ اس کو اسی طرح زندگی گزارنی ہے جس طرح اس کا خدا چا ہے۔ اگر وہ خدائی نقشہ کے خلاف چلے گا تو بربادی کے سوا کہیں زاہدی تراندی ہوتا ہے (یا شاید یہ مریپ اور نہیں پہنچ سکتا ۔
سلیقہ کے ساتھہ ہندستانیں ہے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues