سلیقہ کے ساتھہ ہندستانیں ہے
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳
تاہم گردشِ نوکی اس انسانی شکل میں یہ خرابی ہے کہ ان ایندھنوں کی باقیات کو ہوا، پانی اور زمین کے ذریعہ پھر سے فطری گردش میں ڈالنے کا عمل اتنی زیادہ تیزی سے ہوتا ہے کہ وہ آج کے توازنِ فطرت پر ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ گوانو (GUANO) نام کے مادہ کا جمع ہونا بھی فطرت کا ایک عجیب کارنامہ ہے۔ یہ مادہ جو اب کھاد کے طور پر استعمال ہوتا ہے، بیٹ پر مشتمل ہے جو پرندوں نے لاکھوں سال تک بعض جزیروں اور پہاڑی چوٹیوں پر ڈالی ہے۔ مثال کے طور پر کروڑوں سمندری پرندے پیرو کے ساحل سمندر کے قریب واقع جزائر چنچا کو اپنے بسیرے اور انڈے دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یہاں ان کی بیٹ جو صدیوں سے جمع ہوتی رہی ہے، گوانو کی تہوں میں بدل گئی ہے جو ۱۸ سے ۳۰ میٹر تک اونچی ہیں۔ یہ گوانو (بیٹ) چونکہ نائٹروجن، فاسفیٹ اور پوٹاش سے بھر پور ہے، اس لئے یہ نہایت اعلیٰ قسم کی کھاد ہے۔ اور اس کا جمع ہونا مقامی باشندوں کے لئے ایک عجیب غریب نعمت ہے جو اس کو جمع کر کے کھیتوں میں ڈالتے ہیں۔ اس طرح یہ پودوں کی خوراک بن کر پھر سے حیاتیاتی گردش میں شامل ہو جاتی ہے ٹھوس فضلات کا مسئلہ اب بے حد سنگین ہو گیا ہے۔ کیونکہ ہم ماضی کی نسبت اب کہیں زیادہ فضلہ پھینکتے ہیں اور وہ عام طور سے ایسے کیمیاوی مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے جو قدرتی نظاموں میں نہیں پائے جاتے ۔ اب فطرت نہیں جانتی کہ اس نئی صورتِ حال سے، جس کی ماضی میں کوئی نظر نہیں ہے، کیسے پٹاجائے۔ ان ٹھوس فضلات کے مسئلہ کا حل فطرت کے اپنے طریقوں میں نہیں نکل سکتا اس کے لئے نئے ٹیکنولوجیکل طریقے اور انسان کی جبلی طرز عمل میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔ یہ سانحہ ہے کہ کئی قدیم تہذیبوں نے اپنے ماحول کو تباہ کیا ہے اور یہ کہ کچھ ایسا ہی عمل اب انتہائی صنعتی ترقی والے علاقوں میں ہو رہا ہے۔ بنی نوع انسان کو مستقبل کی خاطر ، اس زمین کے نگہبان کے طور پر عمل کرنا ہے۔
انسان نے اپنی محنت سے ارضی مناظر میں اضافہ کی کوشش کی ہے۔ کھیت ، باغ ، پارک ، مصنوعی جھیلیں اس کی شکل ہیں۔ تاہم انسان کی دست اندازی سے پہلے زمین پر لامتناہی سبز چادر کا جو منظر پھیلا ہوا تھا۔ کوئی انسانی پارک، اس کا بدل نہیں ہو سکتا۔ فطرت کے جنگلوں کی عجیب روشنیاں حیرت و استعجاب کی ایسی کیفیت پیدا کرتی ہیں جو کسی پھلوں کے باغیچے یا گلستاں میں محسوس نہیں کی جا سکتی۔ سمندر کی وسعت اور اس کی لہروں کے لامتناہی مدو جزر میں ایک پر اسرار خوبی نظر آتی ہے جو انسان کے بنائے ہوئے ماحول میں ممکن نہیں۔ قدرت کا حسن آفاقی حسن ہے ، جب کہ انسان کا بنایا ہوا حسن محد ودحسن ہوتا ہے ۔ اور محدود حسن کبھی آفاقی حسن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ صبح کی سنہری شعاعوں یا شام کی رنگین شفق کے پس منظر میں چڑیوں کے جھنڈ کے جھنڈ اڑنے سے جو اتھاہ حسن پیدا ہوتا ہے کون ہے جو اس کو دہرابھی سکے ، اس سے بہتر حسن کو وجود میں لانے کا تو سوال ہی کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues