جدید فلکیات
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳
ہے کہ کیا کائنات میں کسی دوسرے مقام پر بھی زندگی موجود ہے۔ ایک اخبار نے ایک مضمون چھاپا جس کا عنوان تھا HELLO! HELLO! ANYONE OUT THERE (کیا اوپر کوئی ہے) ایک ڈچ ریاضی داں (H. FREUDENTHAL) نے ۱۹۶۰ء میں ایک کائناتی زبان تجویز کی تھی جو خلائی باشندوں سے گفتگو میں کام آسکے اگرچہ ویں صدیو میں ہر سیارہ حتی کہ سورج بھی زندگی کا مسکن سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب کائنات کے دوسرے مقامات پر جس زندگی کا یقین کیا جا رہا ہے، وہ پہلے سے بہت مختلف اور معنی خیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے علوم اس کو دوبارہ خدا کے عقیدہ کی طرف لے جارہے ہیں۔ البتہ وہ "خدا" کا نام نہ لے کر "ترقی یافتہ تہذیب" کا نام لے رہا ہے۔ شاید تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی ہے۔ حبش کی ہجرت نبوت کے پانچویں سال مکہ میں مسلمانوں کے حالات بہت سخت ہو گئے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر قریش نے ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کی۔ انھوں نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ کوئی شخص مسلمانوں سے کوئی چیز نہ خریدے، نہ ان کے ہاتھ بیچے، نہ ان کی لڑکی سے نکاح کرے، نہ اپنی لڑکی ان کے نکاح میں دے۔
قدیم مکہ میں اس قسم کا معاشی اور سماجی بائیکاٹ زندگی کو مفلوج کر دینے کے ہم معنی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ حبش میں ایک انصاف پسند بادشاہ کی حکومت ہے تم لوگ وہاں چلے جاؤ مسلمان چھوٹی جماعتیں بنا کر حبشہ جانا شروع ہو گئے۔ کیونکہ اجتماعی شکل میں گھر سے نکلنے میں یہ اندیشہ تھا کہ قریش رکاوٹ ڈالیں گے۔ جدہ کے ساحل سے کرایہ کی کشتیوں میں سوار ہو کر ان لوگوں نے بحر قلزم پار کیا اور حبش میں اتر گئے۔ وہاں تجارت اور مزدوری کر کے گزر اوقات کرنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً ایک سو آدمی مکہ سے نکل کر حبش گئے تھے۔
قریش کو جب معلوم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر حبش چلے گئے ہیں تو انھوں نے اپنے دو آدمی عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو مقرر کیا کہ وہ حبش جائیں اور بادشاہ کو آمادہ کریں کہ وہ مسلمانوں کو قریش کے حوالے کر دے۔ قریش کا یہ وفد تحفہ تحائف لے کر حبش پہنچا اور شاہِ نجاشی کے سامنے اپنی درخواست پیش کی۔ بادشاہ نے مسلمانوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ تمہارا اس سلسلہ میں کیا جواب ہے۔ جعفر بن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے بولے۔ اے بادشاہ مکہ یا عرب کے کسی دوسرے مقام پر ہم نے چوری نہیں کی ہے، نہ کسی کو قتل کیا ہے اور نہ کوئی دوسرا ظلم کیا ہے۔ " شاہِ حبش نے قریش کے وفد سے پوچھا۔ انھوں نے جواب دیا : ان کا کہنا صحیح ہے۔ انھوں نے چوری اور قتل جیسا کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ہمارا الزام صرف یہ ہے کہ انھوں نے باپ دادا کے دین کو بدل ڈالا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues