تاریخ کا مطالعہ
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵
تاریخ کا مطالعہ
سلیمان بن عبد الملک (م 99ھ) کی منقبت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے خلافتِ راشدہ کی زریں فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد (عمر بن عبد العزیز) کا اضافہ کیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسی اموی حکمران کے خانہ میں تاریخ ان واقعات کو بھی لکھتی ہے جن کا آخری نتیجہ ان دو عظیم ترین المیوں کی شکل میں برآمد ہوا جن میں سے ایک کا نام اسپین اور دوسرے کا نام ہندوستان ہے۔ اگر سلیمان بن عبد الملک نے اسپین میں طارق کو اور ہندوستان میں محمد بن قاسم کومعتوب کرکے واپس نہ بلایا ہوتا تو شاید ان دونوں ملکوں کی تاریخ اس سے مختلف ہوتی جو بعد کے دور میں ہمیں نظر آتی ہے۔
اسپین میں کیا ہوا
سلیمان بن عبد الملک نے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ محض ایک ذاتی شکایت کی بنا پر موسیٰ بن نصیر گورنر افریقہ اور اس کے سپہ سالار طارق بن زیاد (فاتح اسپین) کو ان کے عہدوں سے معزول کر کے واپس بلا لیا۔ اور اول الذکر کو قید اور دوسرے کو نظر بند کر دیا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر اسپین کی مسلم حکومت اور مرکز خلافت کے درمیان آغاز ہی میں حریفانہ جذبات پیدا ہو گئے ۔ ۱۳۲ ھ میں جب ایک خون آشام انقلاب کے بعد دمشق کی اموی سلطنت ختم ہوئی اور نئے دار الخلافہ بغداد میں عباسی خلافت قائم ہوئی تو اموی خاندان کا ایک لٹا ہوا شہزادہ عبد الرحمن الداخل اسپین پہنچا اور وہاں کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اسپین میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بنوامیہ کے ایک فرد کی یہ کامیابی عیسائیوں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ اس طرح اسپین اور مرکز خلافت کے درمیان رقابت کی ایک اور وجہ پیدا ہو گئی اور نتیجہ باہمی آویزشوں کا وہ لامتناہی سلسلہ چلا جو صرف اس وقت ختم ہوا جب اسپین میں خود مسلم سلطنت ختم ہو گئی۔
مرکز خلافت اور اسپین کی یہ رقابت یہاں تک بڑھی کہ جس خلافت نے طارق بن زیاد کو کھاری کمک دے کر اسپین کی مہم پر بھیجا تھا اسی خلافت نے فرانس کے بادشاہ شارلیمین کو اکسایا کہ وہ اسپین پر حملہ کرے نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین میں ایک عام خانہ جنگی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ہر علاقہ کا گورنر خود مختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ امیر قرطبہ کے رشتہ داروں نے اس نازک وقت کو اسپین کے تاج و تخت کے لیے سازش کرنے کا سنہری موقع سمجھا۔ مقامی عباسیوں کو شہ ملی کہ وہ باغی مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہر جگہ شورش پیدا کرتے رہیں۔ اسپین کی اموی خلافت کے بعد اسپین کا ملک چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جنھوں نے قرطبہ، اشبیلیہ، غرناطہ، بلنسیہ، طلیطلہ، القاو وغیرہ شہروں کو اپنا پناہ دار حکومت بنا لیا۔ طارق بن زیاد ۹۲ ھ (۷۱۱ء) میں اسپین میں داخل ہوا تھا اور ۱۳۸۹ ھ (۷۹۲ء) میں اسپین سے مسلم
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues