Al-Risala · September 1977 · page 36

اسپین میں کیا ہوا

الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

اقتدار کا خاتمہ ہواا۔ آٹھ سو برس کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے خالی ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق حکمراں ملے ۔ عدل وانصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی۔ اور بلاشبہ انھوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاست دانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی، مگر اندرونی حالات اور مرکز خلافت کی شہ کی بنا پر ملک کی عیسائی رعایا مسلسل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ یعنی اشاعت دین کا کام۔ عرب اور اطراف عرب کے اکثر ممالک جتنی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔

اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سو سالہ دور حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا۔ اگر چہ انھوں نے وہ غلطی نہیں کی جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی۔ انھوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں مگر مسیحی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا کھڑی تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آسکے اور انھیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس جانا پڑا۔

طارق بن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرذہن پر قدم رکھا تھا اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہوسکتی تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیا را کی آیت بطور بد دعا نہیں دہرائی تھی۔ بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کرکے اسلام کا گہوارہ بنا دینا چاہتا ہے۔ مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغ دین کا کام پس پشت پڑ گیا۔ ۱۳۲ھ میں جب مرکز خلافت میں تبدیلی ہوئی اور بنوامیہ کی جگہ بنوعباس کی سلطنت قائم ہوئی تو اس زمین کو مزید تقویت ملی۔ کیونکہ عباسیوں کو جتنی دلچسپی تمدن اور علوم وفنون کی ترقی سے تھی اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن اور علوم وفنون کا مرکز تو بن گیا مگر وہ اشاعت دین کا مرکز نہ بن سکا۔ چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت آناً فاناً غالب آگئی اور الحمرا کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آسکا۔ چونکہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا اس لیے ۹۰۲ھ میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف دار دگیر شروع ہوئی تو ان کے لیے وہاں چھپنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues

Printed page