اسپین میں کیا ہوا
الرسالہ، ستمبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کردیں جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے ۔ ۲۰ھ میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے وہ دین مسیحی قبول کرلے ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے مگر ان کو ساحل افریقہ تک۔ پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سرزمین اسپین میں باقی نہ رہا۔ عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یا سمندر میں ڈبودیا۔ یا آگ میں جلا ڈالا۔ (۲)
خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی جس کے بانی امیرمعاویہ( وفات۶۰ھ) تھے اس سلسلہ حکومت کا پانچواں فرماں روا عبد الملک بن مروان تھا۔ ۸۶ھ میں عبد الملک کا انتقال ہوا۔ انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنروں اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عید الفطر کے اجتماع میں یکم شوال ۸۶ ھ کو ولید و سلیمان کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی جائے۔ چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی گئی۔ یہی موقع ہے جب کہ مدینہ کے مشہور محدث سعید بن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر درے لگائے گئے ۔ عبدالملک بن مروان (۸۶-۲۳ھ) کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی (سلیمان) کے بجائے اپنے بیٹے (عبدالعزیز) کی طرف منتقل کردے۔ ولید بن عبد الملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ از خود ولی عہدی سے دست بردار ہو جائے ۔ جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام والیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان بن عبد الملک کی ولیعہدی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے اور اس کے بجائے عبدالعزیز بن ولید کی پیدی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے ۔
مگر اس منصوبہ کی تکمیل سے پہلے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ ھ (فروری ۷۱۵ء) میں اس کا انتقال ہو گیا۔ ولید بن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہوگیا جنہوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔ اٹھیں میں سے ایک حجاج بن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا واشرائے موسیٰ بن نصیر حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسیٰ بن نصیر کا قیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبہ کی حمایت کی تھی اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے جن سے سب سے پہلے نمٹنا نئے حکمراں کے لیے ضروری تھا۔ حجاج، سلیمان بن عبد الملک کی تخت نشینی سے آٹھ ماہ پہلے شوال ۹۵ ھ میں انتقال کر گیا تھا۔ اس لیے
‹ Previous page Next page › Contents of September 1977 All issues