ہہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۲
اپنے سینے کی دھڑکنوں میں اس کو بولتے ہوئے سنا ہے، جس نے ان حقیقتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے جن کا قرآن میں ذکر ہے، جس نے اس کو اس طرح پڑھا ہے گویا وہ خود اپنے اندر چھپے ہوئے صحیفے کو زبان سے دہرا رہا ہے۔ یاد رکھیے حقیقت کو پانے والا صرف وہ ہے جس نے اپنے دل کی کتاب پر اس کو لکھا ہوا پایا ہے، جس نے صرف لفظی تشریحات کے ذریعہ اسے جانا ہے، اس نے حقیقت کو ابھی تک پایا ہی نہیں: بَلْ هُوَ ايَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ قرآن کیا ہے وہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں جوان لوگوں أُوتُوا الْعِلْمَ۔ (عنکبوت - ۴۹) کے سینوں میں ہیں جو معرفت رکھتے ہیں۔
قرآن کی جو صفتیں بیان کی گئی ہیں وہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ صفتیں بتاتی ہیں کہ قرآن کے وہ کیا کیا پہلو ہیں جن کا ہماری زندگیوں میں شامل ہو جانا ہمارا خدا کی کتاب کو پا لینا ہے۔ قرآن کو پانے والا وہ ہے جس کی مردہ روح کو قرآن سے زندگی ملی ہو، جس کے لیے وہ دل کے زنگ کو دور کرنے والی کتاب ہو، جس کے لیے وہ نور بن گیا ہو جس کی روشنی میں وہ چلتا ہو۔ قرآن کو ان لوگوں نے پایا ہے جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ اسے پڑھتے ہیں تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں اور وہ اپنے آنسوؤں سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت صاحب قرآن کے آگے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ علامات ہیں جو بتاتی ہیں کہ آدمی کو قرآن کی تلاوت حق نصیب ہوئی ہے یا نہیں اور اس نے فی الواقع خدا کی کتاب کو پا لیا ہے یا وہ ابھی تک اس سے محروم ہے:۔
اِذَا تُتْلٰی عَلَيْهِمْ ايَاتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَّ جب اللہ کی آیتیں انھیں سنائی جاتی ہیں تو وہ روتے بُكِيًّا۔ (مریم - ۵۸) ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام چیزوں کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ ایک ہی چیز سے آدمی فیوت بھی حاصل کر سکتا ہے اور وہی بیک وقت اس کے لیے فتنے میں پڑنے کا بھی ذریعہ ہے۔ ٹھیک یہی حال خدا کی کتاب کا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِی اسی طرح اللہ (قرآن کی آیتوں سے) کسی کو گمراہ کرتا ہے اور مَنْ يَشَاءُ (مدثر - ۳۱) کسی کو ہدایت دیتا ہے۔
بلاشبہ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ مگر آدمی کا اپنا چہرہ جتنا صاف ہو گا اتنا ہی زیادہ وہ آئینہ کے اندر صاف دکھائی دے گا۔ چنانچہ قرآن سے بھی آدمی کو وہی کچھ ملتا ہے جو وہ اس سے حاصل کرنا چاہتا ہو۔ قرآن کے ذریعہ بے راہ ہونے کی ایک صورت تو وہ ہے جب کہ آدمی اس میں سے ایسی باتیں ڈھونڈ لے جو اس کے لیے قرآن پر ایمان نہ لانے کا بہانہ بن جائیں۔ مگر جو لوگ قرآن کو مانتے ہیں وہ بھی اس خطرہ سے محفوظ نہیں ہیں۔ اس قسم کی ممکن صورتوں میں سے ایک وہ ہے جس کا عنوان تحریف ہے۔ یعنی سب کچھ جاننے کے باوجود محض اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کلام الہی کے الفاظ یا اس کے معانی کو بدل دینا (بقرہ - ۷۵)۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues