روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۳
عکاسی نہ کرے جو غریبوں کو اپنی غریبی کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ جو اپنے زمانے کی تمدنی، اجتماعی اور اقتصادی زندگی کی ترجمانی سے معذور ہو۔
قرآن میں ہم بار بار بخل اور طمع کی مذمت دیکھتے ہیں۔ اس قسم کی آیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب دولت کو حقیر سمجھنے والے اور روپیہ کوٹ نہ کرنے والے نہ تھے، جیسا کہ جاہلیت کی شاعری سے ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ ان میں اگر فیاض لوگ تھے تو بخیل بھی تھے، دولت لٹانے والے تھے تو لالچی بھی تھے۔ اور حق یہ ہے کہ عربوں کی زندگی واقعہ ایسی ہی تھی۔ کیونکہ مکہ اور مدینہ کی زندگی کی اصل بنیاد تجارت تھی۔ اور قدیم قوموں میں جہاں کہیں بھی تجارت کا ذکر ہے، اسی کے ساتھ سود، بخل، لالچ، ظلم کا بھی ذکر ہے۔ یہ نقائص مال کے جمع کرنے سے وابستہ ہیں۔ درآں حالیکہ جاہلی ادب میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ قرآن ناقابل تردید انداز میں مکہ، مدینہ اور طائف کی وہی تصویر پیش کرتا ہے جو دوسرے پرانے شہروں ایتھنز، روم اور کارتھیج (قرطاجنہ) کی تصویروں سے ملتی جلتی ہے۔
جاہلی ادب کے نام سے جو چیز ہمارے پاس موجود ہے وہ صرف صحرا اور بادیہ کی عربی زندگی کا ذکر کرتی ہے اور وہ بھی نا مکمل ۔ ہم زمانہ جاہلیت کے اشعار میں کہیں بھی نہ تو سمندر کا ذکر پاتے ہیں، نہ اس کی طرف کوئی اشارہ۔ گویا کہ زمانہ جاہلیت میں عرب قوم سمندر کے علم سے ناواقف تھی اور ان کو سمندر سے کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔ مگر قرآن عربوں پر یہ احسان رکھتا ہے کہ " خدا نے تمھارے لئے سمندر کو مسخر کر دیا ہے اور تمھارے لئے سمندر میں منافع ہیں"۔ اسی طرح قرآن احسان رکھتا ہے کہ ”سمندر سے تم تازہ گوشت حاصل کرتے ہو۔ “ یہ کھلا ہوا ثبوت ہے کہ عرب ان چیزوں سے واقف تھے۔ جاہلیت کے اشعار میں یہ چیز کہاں مل سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایام جاہلیت کی صحیح تصویر اس بے نتیجہ ادب میں، جس کو لوگ جاہلی ادب کہتے ہیں، ڈھونڈنے کے بجائے قرآن میں تلاش کرنا چاہئے۔ (الادب الجاہلی) - لطیفہ مرزا غالب - ۱۸۶۹ء) جس مکان میں رہتے تھے، اس مکان میں چھت کے اوپر ایک کمرہ تھا اور اس کمرہ سے ملی ہوئی ایک تنگ و تاریک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ گرمی کے موسم میں وہ ٹھنڈی رہتی تھی۔ سخت موسم میں مرزا اسی کوٹھری میں بیٹھتے تھے۔ ایک بار رمضان کا مہینہ تھا، سہ پہر کے وقت مرزا غالب اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس کوٹھری میں بیٹھے ہوئے چوسر کھیل رہے تھے اور تفریح کر رہے تھے۔ اتنے میں مفتی صدر الدین خاں آزردہ وہاں آگئے۔ کوٹھری میں لہو و لعب کا منظر دیکھ کر انھوں نے مرزا سے کہا: ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ آج اس حدیث کی صحت پر شبہ ہو گیا۔
مرزا غالب فوراً بولے: "مولانا! حدیث بالکل صحیح ہے۔ بات یہ ہے کہ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے وہ یہی کوٹھری ہے۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues