ہہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۷
روانہ ہو جاتے ہیں۔ ملازم اپنے دفتروں کی تیاری شروع کر دیتے ہیں اور بہت سے لوگ جنھیں صرف آرام عزیز ہے وہ اس سہانے وقت میں اپنے نرم بستروں سے لپٹ جانے کو موزوں ترین خیال کرتے ہیں۔
کس قدر غافل ہے انسان جو اس وقت بھی محروم رہتا ہے جب کہ پانے کے امکانات سب سے زیادہ ہوں، ایک دروازہ جو ہر روز انسان کے لیے کھلتا ہے مگر نادان انسان ہر روز اسے اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔ صلوٰۃ خشوع کی دوسری پہچان یہ ہے کہ نماز میں آدمی کا جھکنا اس کی پوری زندگی میں اسی قسم کے جھکاؤ کا عنوان بن جاتا ہے۔ اس کا رکوع اور سجدہ دراصل اس بات کا ایک عملی اقرار ہے کہ اس نے پوری زندگی خدا کے آگے ڈال دی ہے نہ کہ محض طور پر خدا کا پابند بن چکا ہے۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (عنکبوت-۵۱) نماز برکاریوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔ ایک نبی نے جب لوگوں کو خدا کا عبادت گزار بننے کی دعوت دی تو ان کی قوم، جس نے اپنی زندگی کی باگ اپنے نفس کے حوالے کردی تھی اور کسی دوسرے نظام اطاعت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی، اس نے جواب دیا: يَاشُعَيْبُ أَصَلَوٰتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ اے شعیب! کیا تمہاری نماز کہتی ہے کہ ہم ان چیزوں کی اَبَاؤُنَا اَوْ أَنْ نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ عبادت چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے ہو د - ۸۷ آئے ہیں اور ہمارے مالوں میں ہماری مرضی کا کوئی دخل نہ ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ نماز محض رسمی قسم کی پوجا نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود اور تمام اٹھانے کو خدا کے آگے ڈال دینے کا نام ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ خدا کے حضور جھک کر زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ ”میرے آقا تو مجھے حکم دے‘ میں تیرے حکم کی تعمیل کروں گا۔ اس اقرار کے باوجود اگر آپ کسی کو دیکھیں کہ اس کی مسجد کی نماز اس کی پوری زندگی کی نماز نہیں بنی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی تک صلوٰۃ خشوع سے محروم ہے۔ قرآن کی تصریح کے مطابق جس نماز کے ساتھ اتباع شہوات پایا جارہا ہو، وہ ایسی نماز ہے جس سے روح صلوٰۃ ضائع ہو چکی ہے (مریم-۵۹)
بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ان کی نمازیں بہت اچھی نہ سہی تاہم وہ نماز تو پڑھ لیتے ہیں اور یہ بھی بہر حال فرض کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔ مگر یہ صرف شیطان کا دھوکہ ہے۔ یاد رکھیے اللہ تعالیٰ کو جو چیز مطلوب ہے وہ ذکر قلیل نہیں، بلکہ ذکر کثیر ہے۔ ذکر قلیل کو تو منافقوں کی پہچان بتایا گیا ہے۔ (نساء - ۱۴۲) صلوٰۃ خشوع کی تیسری اور آخری پہچان یہ ہے کہ بندہ جب نماز میں مشغول ہو تو وہ اپنے آپ کو خدا سے بالکل قریب محسوس کرے، جیسا کہ ارشاد ہوا ہے:
وَاسْجُدُ وَاقْتَرِبُ (علق ۱۹) سجدہ کر اور قریب ہو جا یہ سجدہ قرب کیا چیز ہے اس کو شاید لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جب آدمی اس عالم میں پہنچتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ایک ان دیکھی حقیقت کو کامل یقین کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ ایک بعید ترین چیز سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues