ہہاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۸
انتہائی طور پر قریب ہے، کسی مخاطب کی موجودگی کے بغیر کامیاب ترین گفتگو میں مصروف ہے۔ ایک سب سے زیادہ پرکشش چہرے کے لیے اپنے اندر سب سے زیادہ محبت کے جذبات پا رہا ہے۔ ایک چیز جس کو دنیا کسی بھی واسطہ کے ذریعہ محسوس نہیں کیا جا سکتا، کسی واسطہ کے بغیر وہ اس تک پہنچ گیا ہے۔
گویا سجدہ جو نماز کی انتہائی حالت ہے وہ بیک وقت خدا سے قریب ہونے کی بھی انتہائی حالت ہے۔ نماز کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ ہم دنیا میں رہتے ہوئے اس کی معیت اور قربت حاصل کر سکیں۔ نماز کے ذریعہ آدمی جب اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کرتا ہے تو وہ روحانی طور پر خدا سے جڑ جاتا ہے، وہ یاد الہی کی ایسی حالت اپنے اوپر طاری کرتا ہے جب کہ وہ مکمل طور پر ایک حیاتی وجود بن جاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لیے اپنے آپ کو خدا کے اندر گم کر دیتا ہے۔ وحدت وجود کا تصور غالباً اپنی ابتدائی شکل میں محض اس کیفیت کو بتانے کے لیے تھا جو حضور الہی میں غرق ہونے کے وقت آدمی کے اوپر طاری ہوتی ہے۔ مگر بعد کو منطقی یقین کی کوشش نے اس کو ہمہ اوست کے ناقابل فہم فلسفے تک پہنچا دیا۔ اگر اس بدنام عقیدے کے متعلق میری تشریح کو صحیح مانا جائے اور اس کو محض حیاتی ارتباط کے مفہوم میں لیا جا سکے تو میں کہوں گا کہ سجدہ قربت کے وقت آدمی پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کے اظہار کے لیے شاید انسانی زبان میں یہ ایک قریب ترین تعبیر ہے۔ جب سپردگی کا لمحہ آتا ہے، جب عجز اور محدودیت کا پیکر اپنے آپ کو لامحدود کمال کے حوالے کر دیتا ہے، جب پیشانی اس طرح کھنچ اٹھتی ہے گویا وہ زمین سے چپک گئی ہے۔ اس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے گویا قطرہ نے اپنے آپ کو سمندر میں ڈال دیا ہے، گویا انسان خدا سے ملا ہوا ہے۔ خاتمہ یہ تلاوت حق اور صلوٰۃ خشوع کی مختصر ترین تشریح ہے جو میں نے آپ کے سامنے کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ کچھ نئی باتیں نہیں ہیں، ہر وہ شخص جس نے قرآن کو پڑھا ہے وہ ان باتوں کو بخوبی جانتا ہے۔ مگر اس کے باوجود میں نے آج آپ کے سامنے ان کو اس لیے دہرایا ہے تاکہ انھیں یاد دلا کر آپ سے یہ عہد لوں کہ آپ ان کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں گے۔ آپ میں سے ہر شخص کو کسی دوسرے سے نہیں بلکہ خود اپنے آپ سے اس معاہدہ پر دستخط کرنا ہے کہ وہ اپنے علم کو اپنا احساس بنائے گا۔ وہ جو کچھ جانتا ہے اس کو محسوس کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر آپ سچ مچ یہ ارادہ کر لیں تو یقین مانیے کہ یہ کائنات آپ کے لیے سلام و مرحبا کی آواز سے اس طرح گونج اٹھے گی کہ آپ کے کان اس کی آواز سنیں گے، اور آپ کے لیے خدا کی جنت کے دروازے اس طرح کھول دیے جائیں گے کہ آپ جیتے جی اس کی خوشبو محسوس کریں گے۔ اور اگر آپ اس عہد کے لیے تیار نہ ہوں تو وہ سب کچھ جو اجالے میں ہے اور وہ سب کچھ جو اندھیرے میں چھپا ہوا ہے، گواہ ہے کہ خدا کے یہاں اب آپ کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ کیونکہ آپ ان باتوں کو پہلے سے جانتے ہیں، آپ نے خود اپنے اوپر حجت تمام کر دی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اپنے کو نہیں بدلتے تو مجھے نہیں معلوم کہ آپ کے پاس وہ کونسا سہارا ہے جس کے بل پر آپ رب العالمین کے سامنے اتنی بڑی جسارت کر رہے ہیں۔ (زندگی ذی الحجہ ۱۳۸۰ھ) تقریر اجتماع جماعت اسلامی ہند، بمقام بدایوں، ۱۶، ۱۷ اپریل ۱۹۶۱ء
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues