صنعتی نظام کا تضاد
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵۹
تیار کرتی ہے۔ جب کہ اعتبار کو خریدنے والے اب بھی انسان ہی ہیں۔ اس صورت حال نے اقتصادی عمل کے درمیان تضاد پیدا کر دیا ہے۔ یعنی انسان اور پیداوار کے درمیان فاصلہ۔ جدید صنعتی نظام ایک طرف پیداوار کو پُر غرور طور پر بڑھاتا ہے، دوسری طرف خریداروں کو مسلسل گھٹا رہا ہے۔ مشین کی ترقی یہ ہے کہ وہ کام کرنے والوں کی تعداد کو انتہائی حد تک کم کرنے۔ مگر یہ بھاری مشینیں جو پیدا وار نکالتی ہیں، ان کو پھیلنے کے لئے دوبارہ بڑھے ہوئے خریداروں کی ضرورت ہے ۔ یہ خریدار کہاں سے آئیں جب کہ خود مشین ہی نے پورے اقتصادی عمل پر قبضہ کرکے ان کو بے روزگار کر دیا اور نتیجہ ان کی قوت خرید کو ختم کر دیا۔ یہ ہے وہ تضاد جس سے آج کا صنعتی نظام دوچار ہے۔ اس کی جو کامیابی ہے، وہی اس کی ناکامی بن گئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ بھاری مشینیں ایجاد کرکے کام کرنے والوں کی تعداد گھٹا دے۔ مگر کام کرنے والوں کی تعداد کو گھٹانا عملاً خریداروں کی تعداد کو گھٹا دینا ہے۔ اس طرح مشینی عمل کے معنی بالآخر یہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے کنٹکل کمالات سے جو قیمتی پیدا وار تیار کرے، خود اس کے اپنے عمل کے نتیجہ میں اس کو بازار سے اٹھانے کے لئے خریدار موجود نہ ہوں۔
صنعتی نظام کا تضاد
ایرک گل (ERIC GILL) نے لکھا ہے:
ہمیں کارخانوں میں انسانوں کی ضرورت نہیں، مشینیں ان سے بہتر ہیں۔ ان کی ایجاد اور استعمال کا سب سے بڑا مقصد انسانی محنت کی بچت ہے، لہذا ہمیں مشینوں کو نہیں، انسانوں کو ختم کرنا ہے۔ مگر وہ انسان جسے ہم دنیا سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ وہ وہ انسان ہے جو کارخانہ میں کام کرتا ہے نہ کہ محکہ میں بسنے والا انسان۔ محنتوں رہنے والے انسان ہمارے ساتھی ہیں۔ وہ ہمارے دوست ہیں۔ کیونکہ وہ ہمارا مال خریدتے ہیں۔ آج کل سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کس طرح پیدائش میں انسانی محنت کے دخل کو ختم کیا جائے، اور دوسری طرف صارفین (CONSUMERS) کی تعداد اور ان کی قوت خرید کو کبھی بڑھایا جائے۔ یہی ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔ جڑ کھلی بھی ہے اور شاخ بھی یہی ہے ۔ “ صنعتی نظام کا وہ مسئلہ ہے جس کا کوئی حل اس کے موجودہ ڈھانچہ میں نہیں۔ قدیم زمانہ میں انسان اپنی محنت سے پیدا وار تیار کرتا تھا اور انسان ہی اسے خریدتا تھا۔ اس طرح اقتصادی عمل کے اندر کوئی تضاد نہیں تھا۔ اب ٹکنالوجی کے دور میں مشین پیداوار کارل مارکس (۱۸۸۳ - ۱۸۱۸) کی کتاب سرمایہ (DAS KAPITOL) کا پہلا ایڈیشن جرمن زبان میں چھپا تو اس کے فروخت ہونے میں اتنے سال لگ گئے کہ کہا جاتا ہے کہ اس کی آمدنی کارل مارکس کے سگار کا خرچ بھی پیدا نہیں کرسکتی تھی۔ مگر اسی کارل مارکس کی کتابوں، اس کے ترجموں اور اس کی تشریحات پر آج اتنے بے شمار ادارے قائم ہیں جن سے لاکھوں لوگوں کو قیمتی روزگار مل رہا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues