Al-Risala · February 1977 · page 460

صنعتی نظام کا تضاد

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۶۰

کام صرف وہ ہے، جو خود اپنے مثبت فکر کے زور پر وجود میں آئے۔ خارجی حالات کے خلاف ردعمل کے طور پر جو چیز ظاہر ہو، وہ کام نہیں، جذباتی ابال ہے۔ اس قسم کا جذباتی ابال دفی شور و شر تو ضرور پیدا کر سکتا ہے مگر اس سے کسی حقیقی نتیجہ کی امید کرنا ایسا ہی ہے جیسے کتے کی بھونک سے بلبل کے نغمہ کی توقع کی جائے۔ نادانی کی چھلانگ حکایت ہے کہ کسی زمانہ میں بہت بڑا سیلاب آیا۔ ایک بندر اور ایک مچھلی اس میں پھنس گئے۔ بندر تیز تھا۔ چھلانگ لگا کر ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک شاخ پر جا بیٹھا جہاں وہ سیلاب کی طوفانی موجوں سے محفوظ تھا۔ اب اس نے نیچے نظر ڈالی تو دیکھا کہ مچھلی امڈتی ہوئی لہروں کے خلاف جد و جہد میں مصروف ہے۔ اس نے سمجھا کہ مچھلی طوفان میں پھنس گئی ہے۔ وہ پوری ہمدردی اور نیک نیتی کے ساتھ نیچے آیا اور مچھلی کو پانی سے نکال کر خشکی پر ڈال دیا۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ ظاہر ہے۔

نادان دوستی کی یہ تمثیل ایڈیسن کی زندگی میں دہرہ بن چکی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈیسن ایک کتاب پالے ہوئے تھا جو اس کو بہت محبوب تھا۔ ایک روز ایڈیسن کا کتا اس کے مطالعہ کے کمرہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ میز پر اس کے ضروری کاغذات پھیلے ہوئے تھے اور کروسین کا لیمپ جل رہا تھا۔ ایک پتنگا کہیں سے کمرے میں داخل ہو گیا اور لیمپ کے گرد منڈلانے لگا۔ کتا دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا۔ آخر اس کو گوارا نہ ہوا کہ اس کے آقا کی میز پر ایک پتنگا قابض ہو جائے۔ اس نے اس کو پکڑنے کے لئے ایک چھلانگ لگائی۔ پتنگا تو اڑ گیا، البتہ لیمپ الٹ گیا اور میز پر تیل پھیل جانے کی وجہ سے فوراً آگ لگ گئی اور کاغذات جل گئے۔ ایڈیسن نے دیکھ تو کہا:

” میرے محبوب کتے! تجھے نہیں معلوم کہ تو نے کیا کیا! موجودہ زمانے میں ہمارے رہنماؤں نے بھی حیرت انگیز طور پر اسی قسم کے کارنامے دکھائے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اصلاح ملت اور احیائے اسلام کا نعرہ لے کر اٹھا۔ مگر ہر ایک نے ایسی نادانی کی چھلانگیں لگائیں کہ اصل مقصد تو حاصل نہیں ہوا البتہ نئے نئے مسائل اور نئی نئی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں، جس کے نتیجہ میں مسئلہ پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گیا۔ نادانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page