بائبل کی پیشین گوئیاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۳
اور جب تک چاند قائم ہے، خوب امن رہے گا۔ اس کی سلطنت سمندر سے سمندر تک اور دریائے فرات سے زمین کی انتہا تک ہوگی۔ بیابان کے رہنے والے اس کے آگے جھکیں گے۔ اور اس کے دشمن خاک چاٹیں گے۔ ترسیس کے اور جزیروں کے بادشاہ نذریں گزرانیں گے۔ سبا اور سیبا کے بادشاہ ہدیئے لائیں گے۔ بلکہ سب بادشاہ اس کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔ کل قومیں اس کی مطیع ہوں گی۔ کیونکہ وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جس کا کوئی مددگار نہیں، چھڑائے گا۔ اور غریب اور محتاج پر ترس کھائے گا اور محتاجوں کی جان کو بچائے گا۔ وہ فدیہ دے کر ان کی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائے گا اور ان کا خون اس کی نظر میں بیش قیمت ہوگا۔ وہ جیتے رہیں گے اور سبا کا سونا اس کو دیا جائے گا۔ لوگ برابر اس کے حق میں دعا کریں گے۔ وہ دن بھر اسے دعا دیں گے۔ زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی افراط ہوگی۔ ان کا پھل لبنان کے درختوں کی طرح جھومے گا۔ اور شہر والے زمین کی گھاس کی مانند ہرے بھرے ہوں گے ۔ اس کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔ جب تک سورج ہے، اس کا نام رہے گا۔ اور لوگ اس کے وسیلہ سے برکت پائیں گے۔ سب قومیں اسے خوش نصیب کہیں گی۔ (زبور ۷۲)
مبارک ہیں وہ جو تیرے گھر میں رہتے ہیں۔ وہ سدا تیری تعریف کریں گے۔ مبارک ہے وہ آدمی جس کی قوت تجھ سے ہے۔ جس کے دل میں صیہون کی شاہراہیں ہیں۔ وہ وادی بکا (BACA) سے گزر کر اسے چشموں کی جگہ بنا لیتے ہیں بلکہ پہلی بارش اسے برکتوں سے معمور کر دیتی ہے۔ وہ طاقت پر طاقت پاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک صیہون میں خدا کے حضور حاضر ہوتا ہے۔ (زبور ۸۴ : ۴ - ۷)
اے یاہ! تجھ سا زبردست کون ہے، میرا ہاتھ اس کے ساتھ رہے گا۔ میرا بازو اسے تقویت دے گا۔ دشمن اس پر جبر نہ کرنے پائے گا۔ اور شرارت کا فرزند اسے نہ ستائے گا۔ میں اس کے مخالفوں کو اس کے سامنے مغلوب کروں گا۔ اور اس سے عداوت رکھنے والوں کو ماروں گا۔ پر میری وفاداری اور شفقت اس کے ساتھ رہیں گی۔ اور میرے نام سے اس کا سینگ بلند ہوگا۔ میں اس کا ہاتھ سمندر تک بڑھاؤں گا۔ اور اس کے داہنے ہاتھ کو دریاؤں تک۔ وہ مجھے پکار کر کہے گا تو میرا باپ، میرا خدا اور میری نجات کی چٹان ہے۔ میں اسی کو اپنا پہلوٹھا بناؤں گا۔ اور دنیا کا شہنشاہ۔ میں اپنی شفقت کو اس کے لئے ابد تک قائم رکھوں گا۔ اور میرا عہد اس کے ساتھ لا تبدیل رہے گا۔ میں اس کی نسل کو ہمیشہ تک قائم رکھوں گا۔ اور اس کے تخت کو جب تک آسمان ہے۔ اگر اس کے فرزند میری شریعت کو ترک کر دیں اور میرے احکام پر نہ چلیں، اگر وہ میرے آئین کو توڑیں اور میرے فرمان کو نہ مانیں تو میں ان کو چھڑی سے خطا کی اور کوڑوں سے بدکاری کی سزا دوں گا۔ لیکن میں اپنی شفقت اس پر سے ہٹا نہ لوں گا۔ اور اپنی وفاداری کو باطل ہونے نہ دوں گا۔ میں اپنے عہد کو نہ توڑ دوں گا۔ اور اپنے منہ کی بات کو نہ بدلوں گا۔ اس کی نسل ہمیشہ قائم رہے گی۔ اور اس کا تخت آفتاب کی مانند میرے حضور قائم رہے گا۔ وہ ہمیشہ چاند کی طرح اور آسمان کے سچے گواہ کی مانند قائم رہے گا۔ (زبور ۸۹ : ۸، ۲۱ - ۳۷)
اے سب اہل زمین! اس کے حضور کانپتے رہو۔ قوموں میں اعلان کرو کہ خداوند سلطنت کرتا ہے۔ جہان قائم ہے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues