بائبل کی پیشین گوئیاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴
اور اسے جنبش نہیں۔ وہ راستی سے قوموں کی عدالت کرے گا۔ آسمان خوشی منائے اور زمین شاداں ہو۔ سمندر اور اس کی معموری شور مچائیں۔ میدان اور جو کچھ اس میں ہے، باغ باغ ہوں۔ تب جنگل کے سب درخت خوشی سے گانے لگیں گے۔ خداوند کے حضور، کیونکہ وہ آرہا ہے۔ وہ زمین کی عدالت کرنے کو آرہا ہے۔ وہ صداقت سے جہان کی اور اپنی سچائی سے قوموں کی عدالت کرے گا (زبور ۹۶: ۱۱-۱۳)
خداوند سلطنت کرتا ہے۔ زمین شاداں ہو۔ بے شمار جزیرے خوشی منائیں ۔ بادل اور تاریکی اس کے ارد گرد ہیں۔ صداقت اور عدل اس کے تخت کی بنیاد ہیں۔ آگ اس کے آگے آگے چلتی ہے۔ اور چاروں طرف اس کے مخالفوں کو بھسم کردیتی ہے۔ اس کی بجلیوں نے جہان کو روشن کر دیا۔ زمین نے دیکھا اور کانپ گئی۔ خداوند کے حضور پہاڑ موم کی طرح پگھل گئے۔ یعنی ساری زمین کے خداوند کے حضور ۔ آسمان اس کی صداقت ظاہر کرتا ہے۔ سب قوموں نے اس کا جلال دیکھا ہے۔ کھڑی ہوا عورتوں کے سب پوجنے والے بتوں پر فخر کرتے ہیں، شرمندہ ہوں۔ - - - وہ ان کو شریروں کے ہاتھ سے چھڑاتا ہے۔ صادقوں کے لئے نور بویا گیا ہے۔ (زبور ۹۷)
صداقت کے پھاٹکوں کو میرے لئے کھول دو۔ میں ان سے داخل ہو کر خداوند کا شکر کروں گا۔ خداوند کا پھاٹک یہی ہے۔ صادق اس سے داخل ہوں گے۔ میں تیرا شکر کروں گا کیونکہ تو نے مجھے جواب دیا۔ اور خود میری نجات بنا ہے۔ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ اور ہماری نظر میں عجیب ہے، یہ وہی دن ہے جسے خداوند نے مقرر کیا۔ ہم اس میں شاداں ہوں گے اور خوشی منائیں گے۔ (زبور ۱۱۸: ۱۹-۲۴) دیکھو میرا خادم جس کو میں سنبھالتا ہوں۔ میرا برگزیدہ جس سے میرا دل خوش ہے۔ میں نے اپنی روح اس پر ڈالی۔ وہ قوموں میں عدالت جاری کرے گا۔ وہ نہ چلائے گا اور نہ شور کرے گا اور نہ بازاروں میں اس کی آواز سنی جائے گی۔ وہ مسلے ہوئے سرکنڈے کو نہ توڑے گا اور نشمانی ہوئی بتی کو نہ بجھائے گا۔ وہ راستی سے عدالت کرے گا۔ وہ ماندہ نہ ہوگا اور نہ ہمت ہارے گا، جب تک عدالت کو زمین پر قائم نہ کرے۔ جزیرے اس کی شریعت کا انتظار کریں گے (یسعیاہ ۴۲: ۱-۳) گزر جاؤ، پھاٹکوں میں سے گزر جاؤ۔ لوگوں کے لئے راہ درست کرو اور شاہراہ اونچی اور بلند کرو۔ پتھر چن کر صاف کرو۔ لوگوں کے لئے جھنڈا کھڑا کرو۔ دیکھ خداوند نے انتهای زمین تک اعلان کر دیا ہے۔ دختر صیون سے کہو، دیکھ تیرا نجات دینے والا آتا ہے۔ دیکھ اس کا اجر اس کے ساتھ اور اس کا کام اس کے سامنے ہے اور وہ مقدس لوگ اللہ خدا وند کے خریدے ہوئے کہلائیں گے۔ اور تو مطلوبہ یعنی غیر متروك شہر کہلائے گی۔ (یسعیاہ ۶۲: ۱۱-۱۲)
تیرے لوگوں اور تیرے مقدس شہر کے لئے ستر ہفتے مقرر کئے گئے کہ خطا کاری اور گناہ کا خاتمہ ہو جائے۔ بد کرداری کا کفارہ دیا جائے، ابدی راست بازی قائم ہو، رویا د نبوت پر مہر ہو اور پاک ترین مقام مسوح کیا جائے۔ (دانی ایل ۹: ۲۴) صیون میں ترسنگا پھونکو۔ میرے کوہ مقدس پر سانس باندھ کر زدر سے پھونکو۔ ملک کے تمام باشندے تھر تھرائیں ۔ کیوں کہ خداوند کا نہ ز چلا آتا ہے، بلکہ آ پہنچا ہے۔ اندھیرے اور تاریکی کار روز ۔ ابر سیاه اور ظلمات کا روز ہے۔ ایک بڑی اللہ زبر دست امت جیسی کی مانند نہ کبھی ہوئی اور نہ سالہائے دراز تک اس کے بعد ہوگی۔ پہاڑوں پر صبح صادق کی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues