بائبل کی پیشین گوئیاں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵
پھیل جائے گی گو یا ان کے آگے آگے بھسم کرتی جاتی ہے۔ اور ان کے پیچھے پیچھے شعلہ چلا جاتا ہے۔ ان کے آگے زمین باغ عدن کی مانند ہے اور ان کے پیچھے ویران بیابان ہے۔ ہاں ان سے کچھ نہیں بچتا۔ ان کی نمود گھوڑوں کی کلمہ ہے اور سواروں کی مانند دوڑتے ہیں۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر رتھوں کے کھر کھٹڑ اٹھانے اور بھبو سے کو بھسم کرنے والے شعلہ آتش کے شور کی مانند بلند ہوتے ہیں۔ وہ جنگ کے لئے صف بستہ زبر دست قوم کی مانند ہیں۔ ان کے روبرو لوگ ستھتراتے ہیں۔ سب چہروں کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔ وہ پہلوانوں کی طرح دوڑتے اور جنگی مردوں کی طرح دیواروں پر چڑھہ جاتے۔ سب اپنی اپنی راہ پر چلتے ہیں اور صف نہیں توڑتے۔ وہ ایک دوسرے کو نہیں دھکیلتے۔ ہر ایک اپنی راہ پر چلا جاتا ہے۔ وہ جنگی ہتھیاروں سے گزر جاتے ہیں اور بے ترتیب نہیں ہوتے۔ وہ شہروں کو دوڑتے اور دیواروں اور گھروں پر چڑھ کر کھڑکیوں سے گھس جاتے ہیں۔ ان کے سامنے زمین و آسمان کا نپتے اور تھہ تھراتے ہیں۔ سورج اور چاند تاریک اور ستارے بے نور ہو جاتے ہیں اور خداوند اپنے لشکر کے سامنے للکارتا ہے۔ کیونکہ اس کا لشکر بے شمار ہے اور اس کے حکم کو انجام دینے والا زبر دست ہے۔ کیونکہ خداوند کا روز عظیم نہایت خوفناک ہے۔ کون اس کو برداشت کر سکتا ہے۔ (یوایل ۲ : ۱ - ۱۱) رب الافواج اسرائیل کا خدا فرماتا ہے مجھے اپنی حیات کی قسم ، یقیناً مو آب، سدوم کی مانند ہو گا اور بنی عمون عمورہ کی مانند۔ وہ پر خار و نمک زار اور ابدالآباد بر باد رہیں گے۔ میرے لوگوں کا بقیہ ان کو غارت کرے گا۔ اور میری قوم کے باقی لوگ ان کے وارث ہوں گے۔ یہ سب کچھ ان کے تکبر کے سبب سے ان پر آئے گا۔ کیوں کہ انہوں نے رب الافواج کے لوگوں کی علامت کی اور ان پر زیادتی کی ۔ خدا وند ان کے لئے مہیبت ناک ہو گا اور زمین کے تمام معبودوں کو لاضر کر دے گا اور بحری ممالک کے سب باشندے اپنا اپنی جگہ میں اس کی پرستش کریں گے۔ (صفنیاہ ۲ : ۹ - ۱۱) جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے، اسی طرح زمین خداوند کے جلال کے عرفان سے معمور ہوگی (۲ : ۱۴) خدا تبان سے آیا۔ اور قدوس کوہ فاران سے ۔ اس کا جلال آسمان پر چھا گیا، اور زمین اس کی حمد سے معمور ہو گئی۔ اس کی جگہ ہاہٹ نور کی مانند تھی ۔ اس کے ہاتھ سے کرنیں نکلتی تھیں۔ اور اس میں اس کی قدرت نہاں تھی۔ وبا اس کے آگے آگے چلتی تھی۔ اور آتشین تیر اس کے قدموں سے نکلتے تھے۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھر آئی ۔ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں (حبقوق ۳: ۳-۴) دیکھو، میں اپنے رسول کو بھیجوں گا۔ اور وہ میرے آگے راہ درست کرے گا اور خداوند جس کے تم طالب ہو، نا گہاں اپنی ہیکل میں آمود ہو گا ۔ ہاں عہد کار سول جس کے تم آرزو مند ہو، آئے گا ، رب الافواج فرماتا ہے، پر اس کے آنے کے دن کی کس میں تاب ہے۔ اور جب اس کا ظہور ہو گا تو کون کھڑارہ سکے گا۔ کیونکہ وہ سنار کی آگ اور دھوبی کی صابون کی مانند ہے۔ اور وہ چاندی کو تانے اور پاک صاف کرنے والے کی مانند بیٹھے گا۔ اور بنی لادی کو سونے اور چاندی کی مانند پاک صاف کرے گا تا کہ وہ راستبازی سے خدا وند کے حضور ہدے گذرانیں (ملاکی ۳: ۱-۳) رب الاحکام فرماتا ہے، اس روز وہ میرے لوگ بلکہ میری خاص ملکیت ہوں گے۔ اور میں ان پر ایسا رحیم ہوں گا جیسا باپ اپنے خدمت گزار بیٹے پر ہوتا ہے۔ تب تم رجوع لاؤ گے اور صادق اور شریر میں، اور خدا کی عبادت
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues