نیا عہد نامہ
الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۶
کرنے والے اور نہ کرنے والے میں امتیاز کرو گے۔ کیونکہ وہ دن آتا ہے جو بھٹی کی مانند سوزاں ہوگا ۔ تب سب مغرور اور بدکردار بھو سے کی مانند ہوں گے ۔ اور وہ دن ان کو ایسا جلائے گا کہ شاخ و بن کچھ نہ چھوڑے گا۔ (ملائی ۱۴: ۱۴۔ ۱۸ ، ص : ۱)
نیا عہد نامہ
یسوع نے ان سے کہا ، کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ " جس پتھر کو معماروں نے رد کیا ، وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔ یہ خداوند کی طرف سے ہوا۔ اور ہماری نظر میں عجیب ہے ! " اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو ، جو اس کے پھل لائے ، دے دی جائے گی ۔ اور جو اس پتھر پر گرے گا ، ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ لیکن جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔ (متی ۲۱ : ۴۲۔ ۴۴) اور یہ حنا کی گواہی یہ ہے کہ جب یہودیوں نے یروشلم سے کاہن اور لادی یہ پوچھنے کو اس کے پاس بھیجے کہ تو کون ہے ۔ تو اس نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا بلکہ اقرار کیا کہ میں تو مسیح نہیں ہوں۔ انھوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے ۔ کیا تو ایلیاہ ہے۔ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔ کیا تو وہ نبی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔ پس انھوں نے اس سے کہا پھر تو ہے کون تاکہ ہم اپنے بھیجنے والوں کو جواب دیں تو اپنے حق میں کیا کہتا ہے۔ اس نے کہا ، میں جیسا یسعیاہ نبی نے کہا ہے، بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔ یہ فریسیوں کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ انھوں نے اس سے یہ سوال کیا کہ اگر تو نہ مسیح ہے، نہ ایلیاہ ، نہ وہ نبی، تو پھر یہ تبسمہ کیوں دیتا ہے۔ یہ وحنا نے جواب میں ان سے کہا کہ میں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔ تمھارے درمیان ایک شخص کھڑا ہے جسے تم نہیں جانتے ۔ یعنی میرے بعد کا آنے والا جس کی جوتی کا تسمہ میں کھولنے کے لائق نہیں۔ (یوحنا ۱ : ۱۹- ۲۷) (یسوع نے کہا) اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمھیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمھارے ساتھ رہے ۔ (یوحنا ۱۴ : ۱۶) میں نے یہ باتیں تمھارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں ۔ لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہ ہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمھیں یاد دلائے گا (۲۵۔ ۲۶) اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا۔ کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں (۳۰ : ۱۴) میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لئے فائدہ مند ہے۔ کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مددگار تمھارے پاس نہ آئے گا۔ لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمھارے پاس بھیج دوں گا۔ اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا (۱۶ : ۷، ۸) مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں۔ مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کرسکتے ۔ لیکن جب وہ یعنی روح حق آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا ۔ لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔ اور تمھیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔ وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔ (۱۶ : ۱۳۔ ۲)
خداوند فرماتا ہے دیکھ ، وہ دن آتے ہیں کہ میں اسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے سے ایک نیا عہد
‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues