Al-Risala · February 1977 · page 48

نیا عہد نامہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸

خلاصہ

بائبل کی ان پیشین گوئیوں کے مطابق پچھلے نبیوں کے ذریعے بتا دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں کیا ہونے والا ہے۔ حضرت ابراہیم کے دو صاحبزادے تھے - اسحاق اور اسماعیل۔ آپ نے اسحاق کو کنعان (فلسطین) میں آباد کیا اور اسمٰعییل اور ان کی ماں (ہاجرہ) کے ساتھ اپنے وطن عراق سے نکلے اور خدا کے حکم سے ان کو لے کر مورہ (مردہ) کے علاقہ میں آئے۔ یہاں انھوں نے ایک قربان گاہ (کعبہ) کی تعمیر کی۔ اپنے فرزند اسمٰعییل کو یہاں بسایا۔ خدا نے کہا تیری اس اولاد کی نسل میں میری برکت (نبوت) ظاہر ہوگی۔ اس سے میں ابدی عہد باندھوں گا (دائمی شریعت عطا کروں گا) اس کے وسیلے سے سب قومیں فیض پائیں گی (وہ عالمی نبوت ہوگی) بنی اسرائیل کے بھائیوں (بنی اسماعیل) میں جب تہے عہد والا نبی آئے گا تو اسرائیلی نسل (یہود) سے سلطنت چھین لی جائے گی۔ بنی اسرائیل کو جب احکام الہی دیئے گئے تو وہ راہ راست دیئے گئے جس کی وجہ سے انھیں دہشت ناک کیفیات سے گزرنا پڑا۔ بنی اسرائیل کے بقیہ (بنی اسماعیل) میں جونہی آئے گا، خدا اس کے قلب پر اپنا حکم اتارے گا، اور وہ اپنے منہ سے دہر اکراس کو دوسروں کو بتائے گا۔ سینا (عصر) سے موسیٰ کی نبوت ظاہر ہوئی - شعیر (فلسطین) سے عیسیٰ کی نبوت، اب نبی آخر الزمان کا ظہور فاران (عرب) سے ہوگا۔ وہ تعریف کیا ہوا (محمد) کہلائے گا۔ لوگ دن بھر اس کے لئے دعا (درود و سلام کرتے رہیں گے۔

اسمٰعییل نبی جو صحرائی علاقہ میں آئے گا، صرف پیغام نہیں پہنچائے گا، دہ اپنی زندگی ہی میں اپنے دشمنوں کو مغلوب کرے گا۔ وہ مظلوموں (غلاموں) کو اوپر اٹھائے گا اور ظالموں کو زیر کرے گا۔ اس کا اقتدار قیامت تک ختم نہ ہوگا۔ توحید کے پرستار اس کے عہد میں غلبہ حاصل کریں گے، بیابان کے رہنے والے (قریش) اس کے آگے جھک جائیں گے۔ اس کے دشمن (یہود) ذلیل ہوں گے۔ یمین اور اطراف عرب کے حکمران اس کے مطیع ہوں گے۔ ازلی پہاڑ (روم و ایران) اس کے سیلاب کے آگے پارہ پارہ ہو جائیں گے۔ یہ پیغمبر ابدتک لوگوں کے ساتھ رہے گا (اس کا فیض نبوت جاری رہے گا وہ سب باتیں مکمل شریعت) بتائے گا۔

اس کی حکومت نہ صرف خشکی کے آخری سرے تک ہوگی بلکہ اس سے گزر کر سمندر پار کے علاقوں تک پہنچ جائے گی۔ وہ خدا کی عدالت کو زمین پر قائم کرے گا۔ اس کی نبوت نبیوں کے سلسلے پر مہر کرے گی۔ پاک ترین مقام (کعبہ) رکز توحید قرار پائے گا۔

اس پیغمبر کے ماننے والے خدا کے خریدے ہوئے کہلائیں گے (إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَ أَمْوَالَهُمْ) وہ جنگ میں صف بستہ ہو کر لڑیں گے (يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفّا) وہ پہلوانوں کی طرح ڈٹیں گے اور دیواروں (خیبر کے قلعوں پر چڑھ جائیں گے۔ یہ پیغمبر (فتح مکہ کے دن دس ہزار ساتھیوں کو لے کر اچانک اپنی ہیکل (خانہ کعبہ) میں آمود موجود ہوگا۔ اس پیغمبر کے امتی اگر خدا کے احکام کو ترک کر دیں، تب بھی وہ سابق امتوں کی طرح معزول نہ کئے جائیں گے۔ صرف تنبیہہ کی سزا انھیں دی جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page