Al-Risala · February 1977 · page 49

ڈاکٹر تارا چند

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹

ڈاکٹر تارا چند

جنہوں نے اسلامی تاریخ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر تارا چند (۱۸۸۸ - ۱۹۷۳) فارسی زبان بہت اچھی جانتے تھے۔ اسی لیے پنڈت نہرو نے ۱۹۵۲ء میں ان کو ایران کا سفیر مقرر کیا تھا۔ انھوں نے سراکبر ہائیڈری کا فارسی ترجمہ، از داراشکوہ) کو ایڈیٹ کیا تھا جس کو حکومت ایران نے خصوصی اہتمام کے ساتھ چھپوایا۔ ۱۹۱۳ میں انھوں نے میور سنٹرل کالج الہ آباد سے امتیاز کے ساتھ تاریخ میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد وہ کائستھ پاٹھ شالہ (ڈگری کالج) میں استاد ہو گئے۔ کائستھ پاٹھ شالہ ٹرسٹ کے صدر کرنل رنجیت سنگھ ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے ٹرسٹ کے ایگزیکٹیو کے سامنے تجویز پیش کی کہ نوجوان استاد کو ریسرچ کے لیے یورپ بھیجا جائے۔ بیشتر ممبروں نے شدت سے اس تجویز کی مخالفت کی۔ مگر کرنل رنجیت سنگھ نے بزور اس تجویز کو منظور کرایا اور ان کے سفر کے تمام انتظامات کئے۔

اس کے بعد ڈاکٹر تارا چند آکسفرڈ گئے۔ وہاں وہ کوئنس کالج میں تین سال (۲۲ - ۱۹۱۹) رہے۔ اور ڈی۔ فل کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان تھا، ہندوستانی کلچر پر اسلام کا اثر : THE INFLUENCE OF ISLAM ON INDIAN CULTURE حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت انھوں نے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر چار جلدوں میں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کی تیاری میں اپنی آخری زندگی کے ۴ سال صرف کئے۔ اس کتاب کی پہلی جلد ۱۹۶۱ء میں اور چوتھی جلد ۱۹۷۲ء میں شائع ہوئی۔ سرویش رام نے بجاطور پر لکھا ہے کہ یہ کتاب ڈاکٹر تارا چند کے غیر جانب دارانہ رائے قائم کرنے کا حیرت انگیز DISPASSIONATE JUDGMENT نمونہ ہے۔ ۱۹۳۷ء میں یوپی میں کانگریس کا مسلم لیگ کو وزارت میں شریک نہ کرنا ایک انتہائی نزاعی مسئلہ ہے۔ مگر اس کے بارے میں ڈاکٹر تارا چند نے لکھا: ADMITTING THAT THERE COULD BE TWO OPINIONS CONCERNING THE CONSTITU- TIONAL PROPRIETY OF THE DECISION TO REFUSE THE APPOINTMENT OF THE MUSLIM LEAGUERS TO THE CONGRESS CABINET, IT IS DIFFICULT TO JUSTI- FY ITS WISDOM. (Vol. IV, P. 238)

یہ مانتے ہوئے کہ کانگریس کابینہ میں مسلم لیگی نمائندوں کو شریک کرنے کی قانونی اہمیت پر دو رائیں ہو سکتی ہیں، اس کی معقولیت کو ثابت کرنا سخت مشکل ہے۔ نیشنل ہیرلڈ (لکھنؤ) ۷ نومبر ۱۹۷۲ء ڈاکٹر تارا چند کا خاتمہ بظاہر اس بات کی علامت تھا کہ غیر مسلموں میں وہ نسل اب ختم ہو گئی جو اردو، عربی، فارسی زبانیں جانتی ہو اور اسلامی تاریخ اور مسلم تہذیب کے پس منظر میں سوچنے کی علمی صلاحیت رکھتی ہو۔ مگر حالیہ برسوں میں پٹرول کی کرامت نے از سر نو عربی اور فارسی کو زندہ کر دیا ہے۔ اب مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم ان موضوعات میں داخلے لے رہے ہیں۔ یہ بھی شاید بالواسطہ طور پر اس حدیث نبوی کی تصدیق ہے کہ یہ دین ہمیشہ زندہ رہے گا سیاسی اور زمانی انقلابات کبھی اس میں کامیاب نہ ہوں گے کہ خدا کے دین کو ماضی کی چیز بنا کر تاریخ کی الماری میں بند کر دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page