Al-Risala · February 1977 · page 50

خاتونِ اسلام فریدہ خانم ایم اے

الرسالہ، فروری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۰

خاتونِ اسلام فریدہ خانم ایم اے

اسماء بنت ابو بکر ہجرت سے ۲۷ سال پہلے پیدا ہو ئیں ۔ مکہ میں جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں کی تعداد سترہ تھی ۔ حضرت ابو بکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس تقریباً چھ ہزار درہم تھے ۔ وہ سب ساتھ لے گئے تھے ۔ حضرت ابو بکر کے والد ابو قحافہ جو نا بینا ہو گئے تھے ، بعد کو پوتیوں کے پاس تسلی کے لیے آئے اور کہنے لگے : میرا خیال ہے کہ ابو بکر نے اپنے جانے کا مائدہ بھی تم کو پہنچایا اور مال بھی شاید سب لے گیا ۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے اپنے دادا سے کہا ، وہ تو ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں ۔ یہ کہہ کر میں نے چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کئے ۔ اور اس طاق میں بھر دیے جس میں میرے والد کے درہم پڑے رہتے تھے ۔ اور ان کے اوپر ایک کپڑا ڈال کر دادا کا ہاتھ اس کپڑے پر رکھ دیا ۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ درہم سے بھرے ہوئے ہیں ۔ کہا ، خیر یہ ابو بکر نے اچھا کیا ، اس سے تم لوگوں کے گزارہ کی صورت ہو جائے گی ۔ اسماء کہتی ہیں کہ خدا کی قسم کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے صرف دادا کی تسلی کے لیے یہ صورت اختیار کی تھی۔ حضرت اسماء کی شادی حضرت زبیر سے ہوئی تھی ۔ اس کے بعد جب دونوں ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو اس وقت جو حال ہوا۔ وہ صحیح بخاری میں ان کی زبان سے اس طرح نقل ہوا ہے۔

جب میرا نکاح زبیر سے ہوا تو ان کے پاس نہ مال تھا نہ جائیداد۔ نہ کوئی خادم کام کرنے والا ، نہ کوئی اور چیز۔ ایک اونٹ پانی لاد کر لانے کے لیے تھا اور ایک گھوڑا ۔ میں ہی اونٹ کے لیے گھاس وغیرہ لاتی تھی اور کھجور کی گٹھلیاں کوٹ کر دانے کے طور پر کھلاتی تھی۔ میں ہی پانی بھر کر لاتی اور پانی کا ڈول پھٹ جاتا تو اس کو آپ ہی سیتی تھی ۔ مجھ ہی کو گھوڑے کی ساری خدمت کرنی ہوتی تھی ۔ اس کے ساتھ گھر کا سارا کام بھی انجام دینا ہوتا ۔ ان سب کاموں میں گھوڑے کی خبر گیری میرے لیے زیادہ مشقت کی چیز تھی۔ روٹی البتہ مجھ کو اچھی طرح پکانا نہیں آتی تھی۔ اس لیے جب روٹی پکانا ہوتا تو میں آٹا گوندھ کرا اپنے پڑوس کی انصار عورتوں کے یہاں لے جاتی۔ وہ زمین کو انسان کی قیام گاہ بنایا گیا ہے۔ مگر وہی قیام گاہ زمین کے اوپر کھڑی ہوتی ہے جس کی تعمیر کو بنیاد سے شروع کر کے چھت تک پہنچا یا گیا ہو۔ کوئی شخص چھت کی طرف سے اپنا مکان بنانا شروع کر دے تو خدا کی زمین ایسے مکان کو قبول کرنے سے انکار کر دے گی۔ یہ اس دنیا کی ایک اٹل حقیقت ہے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ جب ملت کی تعمیر کا سوال آتا ہے تو لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ وہ چھت کی طرف سے ملت کا محل اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔ خواہ ان کا محل بالآخر زمین بوس ہو کر مایوسی اور بے یقینی کے طبہ کے سوا ان کے لیے کچھ اور نہ چھوڑے۔

Scanned with CamScanner د

‹ Previous page Next page › Contents of February 1977 All issues

Printed page