Al-Risala · July 1977 · page 57

۴۔ غیر علمی طرز فکر کا خاتمہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۷، صفحہ ۵۷

یہ پورا علاقہ پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ سب سے اونچی چوٹی وہ ہے جو بہتیر اور ملا رنا کے درمیان واقع ہے۔ اس کے اوپر شاہ محمد اسماعیل علی کا مزار ہے۔ ہر جمعرات کے روز یہاں دیئے جلائے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی دیواریں بالکل کالی ہو گئی ہیں، قبر پر دیا جلانا خود ناقابل فہم ہے۔ مگر یہ اور بھی زیادہ ناقابل فہم ہے کہ ایسا عمل کیا جائے جو ”بزرگ“ کی در و دیوار کو کالک لگانے کے ہم معنی بن جائے۔ تاہم ایک تو ہم پرست ذہن کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ تو ہم پرستی نام ہی ہے متضاد چیزوں کو ذہن میں جمع کرنے کا۔

اس پہاڑی کے اوپر دوسرا عجیب منظر بجلی کے کھمبے ہیں۔ بہتیر میں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی۔ مگر اس غیر آباد بلند چوٹی پر، ملا رنا سے، بجلی کے کھمبے پہنچا دیئے گئے ہیں یہ پچھلے الیکشن (مارچ ۱۹۷۷ء) کی برکت ہے۔ تاہم تاروں کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے یہ بجلی کے کھمبے ابھی تک قمقموں کے بوجھ سے خالی ہیں۔ ہم تقریباً دو درجن آدمیوں کے قافلے نے پہاڑ کی اس چوٹی پر عصر کی نماز ادا کی اور دو گھنٹے تک یہاں رہے۔ کھلا آسمان، تازہ ہوا، سرسبز میدان، پہاڑی سلسلے، ڈبڈبائی ہوئی ندیاں، چڑیوں کے چہچہے، غرض قدرت کے ماحول میں گزرنے والے یہ لمحات بڑے پُرکیف تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ہم زندگی کی ایسی بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں تمام پستیاں تحلیل ہوتی چلی جارہی ہیں۔ وہ مسائل جو زمین پر انسان کو الجھائے رہتے ہیں، یہاں بے حقیقت ہوتے ہوئے دکھائی دئے۔ آخر میں یہاں ایک نشست ہوئی جس میں دعوتی کام کی اہمیت اور موجودہ زمانہ میں اس کے امکانات پر اظہار خیال کیا گیا۔

۱۱ اگست کو ہم گنگا پور ہوتے ہوئے دوبارہ دہلی واپس آگئے۔ ہمارا یہ سفر مدرسہ نورالاسلام بہٹیٹر (ضلع سوائی مادھو پور) کی دعوت پر ہوا۔ مولانا عبدالرحیم بڈ میڈوی اور مولانا محمد حسن خاں میواتی شریک سفر رہے۔

قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں حکم دیا گیا ہے کہ دین کو قائم رکھو۔ (شوریٰ - ۱۲) اس آیت میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اقامت دین سے اقامت اتحاد مراد لیا ہے : حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا: (ان اقیموا الدین) امر اللہ بجملة الانبیاء ان اقیموا الدین ان اتفقوا فی الدین (ولا تتفرقوا فیہ) لا تختلفوا فی الدین (تفسیر عبداللہ بن عباسؓ مطبوعہ ۱۲۸۰ھ)

اللہ نے تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین کو قائم رکھو، یعنی دین میں متفق رہو اور اس میں مختلف و متفرق نہ ہو جاؤ۔

اس تشریح کے مطابق اقامت دین کی و آیت میں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ دراصل یہ ہے کہ مسلمان اس صورت حال سے بچیں جو عام طور پر حامل کتاب گروہ کے اندر زوال کے زمانہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی دین کے نام پر اختلاف و انتشار ۔ یہ داخلی دینی اتحاد کا حکم ہے نہ کہ خارجی معرکہ آرائی کا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1977 All issues

Printed page