روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۶
نائجیر یا کا سبق سیاست کے ساتھ دینی خدمت کا کام نہیں کیا جاسکتا "میری کوششوں کی وجہ سے دسمبر ۱۹۶۳ سے لے کر مارچ ۱۹۶۵ تک تقریباً دو لاکھ (۱۸۶۹۳۰) مشرکوں نئے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سماجی زندگی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں" یہ نائجیریا کے سابق وزیرِ اعظم الحاج احمد و بلو - ۱۹۶۶ء) کے الفاظ ہیں جو انھوں نے ۱۴؍ محرم (۱۹۶۳ء) کی موتمر اسلامی (قاہرہ) میں تقریر کرتے ہوئے کہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ افریقہ کی لگ بھگ ۲۲ کروڑ آبادی میں دس کروڑ ۸۰ لاکھ مسلمان ہیں۔
اگر مسلم ملکوں کی مدد شامل حال ہو تو افریقہ کے مشرک قبائل میں تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے۔ اور اس کا ثبوت خود میری وہ کامیابیاں ہیں جن کا میں نے ابھی حوالہ دیا"
احمد و بلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ اپنے دادا عثمان ڈان فوڈیو سے ملا تھا۔ ۱۹ ویں صدی میں جب پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے علاقوں میں گھسنا شروع کیا تو افریقہ میں اس کے رد عمل کے تحت بہت سے مصلحین اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھیں میں سے ایک عثمان ڈان فوڈیو بھی تھے۔ انھوں نے گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی اصلاح اور استعماری طاقتوں کے خلاف جہاد کی زبردست تحریک چلائی۔ دریائے نائجیریا کے کنارے کنارے دور تک انھوں نے اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ ۱۸۳۳ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے یہ مہم جاری رکھی۔ نائجیریا کی راجدھانی لاگوس سے لے کر شمال میں لکھوثوشہر تک مقابلے جاری تھے۔ تاہم آخری فیصلہ انگریزوں کے حق میں ہوا۔ انھوں نے ۱۸۸۶ میں سلطان محمد طاہر اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے کر نائجیریا پر قبضہ کر لیا۔
احمد و بلو اھمیں روایات کے درمیان موجودہ صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ سو کو تو کے امیر قبیلہ تھے۔ ابھی وہ دس سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی ماں ایک دیندار خاتون تھیں ۔ قدیم رواج کے مطابق پہلے انھیں قرآن حفظ کرایا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے عربی مدرسہ میں داخلہ لیا اور ۲۱ سال کی عمر تک دینی تعلیم سے فراغت حاصل کر لی ۔ ۱۹۲۴ میں مغربی تعلیم کے لئے کاستینا کالج میں داخل ہوئے اور انگریزی زبان اور ریاضیات کی تعلیم مکمل کی۔ خاندانی وراثت کے تحت ان کو سکوتو کا امیر بنایا گیا۔ ۱۹۳۴ میں سلطان حسن نے ان کو شہر رباح کا گورنر مقرر کیا۔ ۱۹۳۸ میں جب سلطان حسن کا انتقال ہوا تو نے سلطان ابو بکر نے احمدو بلو کو سو کو تو کے ”سار و فنا“ کے منصب پر سرفراز کیا۔ ۱۹۴۹ میں انھوں نے لندن کا سفر کیا اور آزادی کے مسائل پر حکومت برطانیہ سے گفتگو کی ۔ ۱۹۶۳ کی مردم شماری کے مطابق نائجیریا میں ۳۱ ملین مسلمان ہیں، عیسائی 9 ملین اور دوسرے قبائل ۱۰ ملین ہیں۔ شمالی نائیجیریا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں اور جنوبی نائیجیریا میں زیادہ تر عیسائی ۔ احمد و بلبو شمالی نائیجیریا کے لیڈر تھے ۔ وہ مغربی استعمار کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے ۔ ۱۹۶۰ میں نائیجیریا آزاد ہو تو وہاں ایک فیڈرل گورنمنٹ بنی ۔ اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues