م۔ احمد ایم۔ لے
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۷
سرابو بکر تفارا بلیمو (۱۹۶۶-۱۹۱۲) تھے۔ احمد بلو شمالی نائجیریا کے وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے نمائندے اور اور مسلمان اور عیسائی دونوں شریک تھے۔ احمد بلو نے مسلمانوں کی اصلاح و تعمیر اور عیسائیوں میں اسلام کی اشاعت کا کام پوری توجہ سے شروع کیا۔ اس کے نتائج بھی نکلنے شروع ہوئے۔ مگر انھیں زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ۱۵ جنوری ۱۹۶۶ء کو ۲۵ فوجی افسروں نے مل کر بغاوت کر دی۔ اس بغاوت میں ابو بکر تفار ا بلموا احمد بلو اور بہت سے مسلمان اور عیسائی مارے گئے۔ اس کے بعد نائجیریا میں فوجی حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ جنرل ارونسی تھے مگر انھیں بھی صرف چھ ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ ۲۹ جولائی ۱۹۶۶ء کو دوسری فوجی بغاوت ہوئی اور وہ بھی ختم کر دیے گئے۔ نائجیریا میں دو مسئایم-اے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد ستر فی صد ہے۔ مگر تعلیم ، اقتصادیات اور تنظیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے اکثر شعبوں پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ انھیں تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلند کیا جائے تاکہ وہ ملک میں اپنا جائز مقام پاسکیں۔ دوسرا کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر۔ لاطینی مشتر قابل میں اسلام کی اشاعت ہے۔ یہ دونوں کام احمد بلو نے شروع کر دیے تھے۔ مگر ان کی شہادت سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ تعمیر و تبلیغ کا کام سیاست کو لے کر نہیں کیا جاسکتا احمد بلو اگر سیاست سے الگ ہو کر یہ کام کر رہے ہوتے تو وہ ۲۰- ۲۵ برس میں نائجیریا کی تاریخ بدل دیتے۔ مگر سیا ست کے خار زار نے انھیں بھی ختم کر دیا اور ان کے ملی اور اسلامی کام کو بھی ۔
م۔ احمد ایم۔ لے
صحت مند انسان اپنے مسائل کا حل جذبات سے بالا ہو کر اس طرح کرتے ہیں جیسے یہ ریاضی کے سوال ہوں ۔ ایک سیاست داں نے ایک کیمیا کے متلاشی سے کہا: تانبے کو سونا بنانے کا سب سے آسان اور کامیاب طریقہ یہ ہے کہ تانبے کے اوپر سونے کا طلیح چڑھادو۔
سیٹھ مایا رام اپنا دل بلا سوچے ہوئے دینے کو تیار ہیں۔ مگر ادھار دینا ہو تو خوب سوچ سمجھ کر دیں گے ۔ ایسی بھی مچھلیاں ہوتی ہیں جو صرف گندے پانی میں پروان چڑھتی ہیں ۔
تعصب زدہ انسان خود اپنے ذہن میں اپنی ایک دنیا بنا لیتا ہے، وہ دن کی روشنی میں سامنے کھڑے ہوئے پہاڑ کو نہیں دیکھتا اور اس کے وجود سے انکار کر دیتا ہے ۔ گاندھی جی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان کو جو شیلی تقریر کرنا نہیں آتا تھا ۔
انسان کی فطرت افسانہ پسند ہے۔ وہ حقیقت کو بھی بہت جلد افسانہ بنا دیتی ہے ۔
مجبوری سے آدمی مظلوم تھا۔ موقع ملتے ہی ظالم بن گیا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues