موت کے اُس پار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰
اسٹیج پر مختصر تر لمحات کے لئے ارادہ کر لینا چاہیے کہ ہمارے تمام حوصلے بالاخر فنا ہو جانے والے ہیں، اور یہ کہ ہماری کامیابیاں ہماری نسل کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہو جائیں گی، کائنات کے باقی رہتے ہوئے جہاں ہم موجود نہ ہوں گے (۱۲) 3-12 .THE MYSTERIOUS UNIVERSE, PP ان احساسات کا اظہار تاریخ کے ہر دور میں مختلف سوچنے والے لوگ مختلف انداز میں کرتے رہے ہیں۔ کریسی مارسین (۱۹۳۷ء - ۱۸۸۸ء) زندگی کا سائنسی مطالعہ کرتے ہوئے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے : WHENCE LIFE COME, WHERE LIFE GOES, SCIENCE ANSWERS NOT زندگی کب اس زمین پر آئی ، زندگی کہاں جارہی ہے، سائنس ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں دیتی۔ آئن سٹائن (۱۹۵۵ء - ۱۸۷۹ء) اپنے سائنسی علم کی روشنی میں جب انسان پر غور کرتا ہے تو اس کے پاس اس اقرار کے سوا کوئی اور بات کہنے کے لئے نہیں ہوتی :
MAN IS OUT OF PLAN. HE HAS COME WHERE HE WAS NOT WANTED آدمی اس دنیا میں بے جگہ معلوم ہوتا ہے، وہ ایسے مقام پر آ گیا ہے جہاں وہ مطلوب نہ تھا۔ انسان جو کچھ پانا چاہتا ہے، وہ موجودہ دنیا کے ڈھانچہ میں ممکن نہیں۔ انسان ابدی زندگی چاہتا ہے مگر اس کو ابدی دنیا نہیں دی گئی۔ وہ اپنے لئے ایک بہتر کل (BETTER TOMORROW) پیدا کرنا چاہتا ہے، مگر آنے والا کل اس کے لئے جو چیز لے کر آرہا ہے، وہ حادثہ، بڑھاپا اور موت ہے۔ وہ ایک آزاد، برائیوں سے پاک اور خوشیوں سے بھری دنیا دیکھنا چاہتا ہے، مگر ایسی دنیا اس زمین پر کسی طرح بننے نہیں پاتی۔ ابدی اب دو ہی متبادل قیاسات ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ زندگی، برٹرینڈ رسل (۱۹۷۰ء - ۱۸۷۲ء) کے الفاظ میں، نظام شمسی کے وسیع قبرستان میں اپنی تمام کامیابیوں اور ناکامیوں کے ساتھ بالاخر ہمیشہ کے لئے دفن ہو جانے والی ہے۔ اس کے بعد مدفن (مادی دنیا) شاید کسی شکل میں باقی رہے مگر دفن ہونے والے (انسان) کا اس میں کہیں وجود نہ ہوگا. دوسرے یہ کہ موجودہ دنیا کے علاوہ یا اس کے بعد کوئی اور زیادہ مکمل دنیا ہے جہاں انسان اپنے خوابوں کی زندگی کو پاسکتا ہے ۔ موت اگلی وسیع تر زندگی کی طرف سفر ہے نہ کہ اس کا خاتمہ۔ گویا ہمارے اور ہماری آرزوؤں کے درمیان وہی نسبت ہے جو بچہ اور انسان کے درمیان پائی جاتی ہے۔ بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں یہ آرزو لئے ہوئے بند رہتا ہے کہ وہ ایک وسیع کائنات کے اندر ایک پورے قد کا انسان بن کر ظاہر ہو۔ پیٹ کے اندر کی محدود دنیا میں یہ محض ایک موہوم خواب معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب وہ ایک دن ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اچانک وہ پا تا ہے کہ اس کا خواب ایک انتہائی حقیقی خواب تھا جو مکمل تعبیر کی صورت میں اس کے قریب ہی موجود تھا، اگرچہ پیٹ کے اندر رہتے ہوئے وہ اس کو براہ راست نہیں جان سکتا تھا یا کم از کم نہیں جان سکتا تھا۔
پہلے قیاس کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مانا جائے کہ وہ چیز جس کو ہم انسان کہتے ہیں، وہ صرف ایک جسم کا نام ہے جسم کی موت کے بعد لازمی طور پر انسان کی موت بھی ہو جاتی ہے۔ مگر اس مفروضہ کے حق میں کوئی قطعی دلیل اب تک
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues