موت کے اُس پار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱
قائم نہ ہو سکی۔ تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ مگر یہ دلیل اصل دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ موت کے دن جو "انسان" جسم سے الگ ہوتا ہے، وہ موت سے پہلے بھی ہمارے لیے قابل مشاہدہ نہیں ہوتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے سوچنے اور محسوس کرنے والے انسان کو دیکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم انسان کے صرف اس جسم کو دیکھتے ہیں جو نمکیات و معدنیات سے مل کر بنا ہے۔ ماورا ئے جسم انسان، جو موت کے دن خاموش ہو جاتا ہے، اس کو ہم مرنے سے پہلے بھی نہیں دیکھتے۔ پھر مرنے کے بعد اگر وہ دکھائی نہ دے تو اس سے اس کا عدم وجود کیسے ثابت ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ جدید سائنس یہ ثابت کر رہی ہے کہ مادہ جب "فنا" ہوتا ہے تو وہ فنا نہیں ہوتا۔ بلکہ زیادہ حقیقی اور ترقی یافتہ شکل اختیار کر لیتا ہے، یعنی انرجی کی شکل۔ فلاسفہ و مفکرین موت کے بعد زندگی کے عقلی و منطقی ثبوت دیتے رہے ہیں۔ بعض ثبوت ان میں بجائے خود وزنی بھی ہیں۔ مثلاً فرد جاف شوان (FRITHJOF SCHUAN) کا یہ قول کہ روح جو دراصل ذہن یا شعور ہے اس کے غیر فانی ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ اس کا اختتام اپنے سے کم درجہ پر نہیں ہو سکتا، دوسرے لفظوں میں مادہ یا مادہ کا ذہنی انعکاس کی صورت میں۔ کوئی برتر چیز کم چیز کا محض فعل نہیں ہو سکتی۔ وہ اس چیز کا صرف ذریعہ نہیں ہو سکتی جس سے وہ بڑھ جاتی ہے:
تاہم، اپنی تمام تر معقولیت کے باوجود، اس قسم کے استدلالات قیاسی استدلالات تھے، اس لئے جدید ذہن کے لئے ان میں زیادہ اپیل نہ تھی۔ جدید ذہن جس استدلال کو اہمیت دیتا ہے۔ وہ اسی دلیل کو دلیل سمجھتا ہے جس کو وہ چھوئے، دیکھے اور تجربہ کرے۔ قیاسی منطق پر قائم ہونے والی دلیل اس کے نزدیک معتبر نہیں۔ مگر بیسویں صدی کے نصف آخر میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، انھوں نے حیرت انگیز طور پر یہ ثابت کیا ہے کہ قیاسی دلائل کے علاوہ خالص تجرباتی نوعیت کے شواہد بھی قدیم زمانہ سے یہاں موجود تھے۔ مگر علمی اصولوں پر ان کا منظم مطالعہ نہیں کیا گیا اور بلا تحقیق یہ فرض کیا جاتا رہا کہ موت کے بعد زندگی کے حق میں کوئی تجرباتی دلیل موجود نہیں ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۳۹ میں بتایا گیا ہے : اللہ موت کے وقت جانوں کو کھینچ لیتا ہے۔ اور جن کے مرنے کا وقت نہیں آیا، ان کی نیند میں۔ پھر ان جانوں کو روک لیتا ہے جن پر مرنا ٹھہرا دیا ہے اور باقی جانوں کو ایک میعاد تک کے لئے رہا کر دیتا ہے (زمر - ۴۲) قدیم ترین زمانہ سے خواب اس قرآنی بیان کی تصدیق کر رہے تھے۔ مگر قدیم زمانہ میں خواب کے فلسفیانہ پہلوؤں پر زیادہ غور نہیں کیا گیا ۔ موجودہ زمانہ میں جب ان کا علمی تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ واقعات، حیرت انگیز طور پر، یہ ثابت کر رہے ہیں کہ روح یا شعور جسم سے الگ ایک مستقل حقیقت ہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues