م۔ احمد ایم۔ لے
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۸
آدمی جب سانس لیتا ہے تو وہ آکسیجن اندر لے جاتا ہے اور کاربن خارج کرتا ہے۔ نباتات کے لئے اس کے برعکس اصول ہے۔ وہ کاربن لیتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ اس دو طرفہ عمل کے ذریعے فطرت کا توازن قائم رہتا ہے۔ مگر انسان اپنے اندھا دھند عمل سے اس توازن کو بگاڑ رہا ہے۔ اس نے خشکی اور تری میں فساد پیدا کر رکھا ہے۔ روایتی اقتصادیات میں اب تک یہ پڑھایا جاتا رہا ہے کہ اگر وسائل کی قلت نہ ہو یا وسائل متبادل اغراض کے لئے استعمال کے قابل نہ ہوں تو وہ اقتصادیات کے دائرہ بحث میں نہیں آئیں گے۔ اس سلسلہ میں ہوا کی مثال دی جاتی ہے کہ یہ ایک مفت وسیلہ فطرت ہے، اس لئے یہ اقتصادی تحقیق کے دائرہ سے باہر ہے۔ لیکن آج ٹوکیو کی سڑکوں پر تازہ ہوا خریدنی پڑتی ہے اور لندن کے اوپر کی ہوا کو صاف کرنے کے لئے لاکھوں پونڈ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ توازن فطرت اور اقتصادیات آج ایک دوسرے سے کتنا قریب ہو چکے ہیں۔ ایک ماہر ماحولیات نے کہا: "ممکن ہے تحفظ فطرت ہی مستقبل کا مذہب جائے۔ "
ایشیا میں ایک نہایت مضرت رساں زرعی طریقہ جنگل کاٹ کر کھیتی کرتے ہیں۔ ایک اور نقصان دہ طریقہ گھریلو جانوروں کو پہنچائی زمینوں پر چرنے کے میں بہت سی زمین خستہ حالت میں نظر آتی ہے اور کچھ پیدانہیں کرتی ۔ اس کی وجہ محض انسانوں اور جانوروں کے ذریعے اس کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔ تقریباً دس کروڑ مویشی جن میں سے بیشتر ناکارہ ہیں وہ اس ملک کے قدرتی سرمایہ پر زندہ رہتے ہیں۔ گیر کے محفوظ جنگل پر کئے گئے ایک سروے سے ثابت ہوا تھا کہ جب یہاں کی زمین مویشی کے کھروں اور انسانوں کے پیروں تلے روندی نہیں جاتی تو گھاس کی سالانہ فصل تقریباً ۴۵۰ کلوگرام فی ہیکٹر بیٹھتی ہے۔ لیکن دیہات کے ارد گرد کی زمین پر جہاں مویشی پھرتے ہیں، یہ فصل صرف ۷۴۵ کلوگرام فی ہیکٹر ہوتی ہے۔ گویا زمین کے مناسب انتظام سے ہندوستان اب کی نسبت دس گنی زیادہ گھاس پیدا کر سکتا ہے ۔
یہ بے معنی بات ہوگی کہ کسی بھوکوں مرتے آدمی سے یہ کہا جائے کہ وہ استحصال کے بجائے تحفظ کرے ۔ لیے چھوڑنے کا ہے۔ قدیم ترین زمانے سے یہاں کے غریب لوگوں نے اپنا یہ حق سمجھا ہے کہ وہ بکریوں کے ریوڑ رکھیں جب کہ انھیں کھلانے کا کوئی انتظام ان کے درختوں کو جو بھاری پیمانے پر ایندھن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے وہ نباتات اور مٹی کے لئے زبردست نقصان ہے۔ مگر اکثر جگہوں پر درختوں کی کٹائی صرف اسی پاس نہ ہو۔ اس کا نتیجہ انسان کے ہاتھوں وجود میں آنے والے ریگستان کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ۔ مہندوستان صورت میں رک سکتی ہے جب لوگوں کو مٹی کا تیل مفت سپلائی کیا جا سکے ۔ جنگلات ہمارے سیارہ کی صحت کے
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues