Al-Risala · October 1977 · page 12

موت کے اُس پار

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲

جسم سے الگ ہو کر بھی پوری طرح باقی رہتا ہے۔ خواب موت نے بعد زندگی کو تجرباتی سطح پر ثابت کر رہے ہیں۔ عام تجربہ ہے کہ خواب میں ایک شخص دور کے کسی واقعہ یا مستقبل میں پیش آنے والے حادثہ کو دیکھ لیتا ہے۔ یہ تجربات جو تقریباً ہر شخص کو پیش آتے ہیں، ثابت کرتے ہیں کہ خواب کی حالت میں آدمی کا شعور موجودہ مادی دنیا سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں زمان و مکان کی حد بندیاں نہیں پائی جاتیں۔ نیند کے وقت سونے والے آدمی پر جو بے خبری طاری ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی روح جُزوی طور پر، اس کے جسم کو چھوڑ دیتی ہے۔ وہ انسان کی محدود دنیا سے نکل کر خدا کی ابدی دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔ راقم الحروف کی لڑکی فریدہ خانم (پیدائش ۱۹۵۲) نے ۲۴ جنوری ۱۹۷۱ء کو دہلی میں خواب دیکھا کہ اس کے بھائی ظفر الاسلام خاں (پیدائش ۱۹۴۸) نے اس کے لئے دس روپے بھیجے ہیں۔ یہ خواب انتہائی غیر معمولی تھا۔ چونکہ خواب دیکھنے والی کے بھائی ۱۹۶۶ سے قاہرہ میں تھے، اور باہر سے کوئی بھائی اپنی بہن کو دس روپے بھیجے، کسی طرح قابل قیاس نہیں ہوسکتا۔ مگر چند ہی روز بعد ظفر الاسلام کا لفافہ قاہرہ سے ملا جس کے اندر دس روپے کا ایک ہندوستانی نوٹ رکھا ہوا تھا۔ ظفر الاسلام کو یہ نوٹ قاہرہ میں اپنے بکس میں پڑا ہوا ملا۔ کیونکہ عرب دنیا میں یہ نوٹ ان کے لئے بے کار تھا، انھوں نے ہندوستان میں اپنی بہن کو خط بھیجتے ہوئے اس کو لفافہ میں ڈال دیا۔ اس کی توجیہہ اس کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتی کہ نیند کی حالت میں آدمی کی روح جسمانی محدودیتوں سے آزاد ہو کر ایک بلند تر آفاقی سطح حاصل کر لیتی ہے۔ اس وقت وہ اشیاء کو ایسے مقام سے دیکھنے لگتی ہے جہاں وہ اپنی جسمانی قیام گاہ کی حد بندیوں سے نہیں دیکھ سکتی۔

اسی طرح سویا ہوا آدمی خواب میں بعض اوقات کسی مرے ہوئے شخص کو دیکھتا ہے۔ یہ مرد شخص اپنے زندہ ساتھی کو خواب میں ایسی باتیں بتاتا ہے جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ شخص اب بھی پورے شعور کے ساتھ موجود ہے، اور خواب دیکھنے والے کی فی الواقع اس سے’’ملاقات‘‘ ہوئی ہے۔ گویا سوئے ہوئے آدمی کے شعور کی سطح، ایک خاص حد تک، مرے ہوئے آدمیوں کے شعور کی سطح کے برابر ہو جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر، نیند کی حالت میں آدمی، محدود معنوں میں، زندگی بعد موت کا تجربہ کرتا ہے۔ نیند کی حالت، جزوی طور پر موت کی حالت کے مشابہ ہے۔

ڈاکٹر کیسل نے شمالی کیرولینا کے ایک امیر شخص کے واقعہ کی تحقیق کی ہے۔ اس کے چار بیٹے تھے۔ وہ کسی بات پر تین لڑکوں سے ناراض ہو گیا اور ایک وصیت نامہ کے ذریعہ اپنے ان تین لڑکوں کو جائداد میں حصہ دار بننے کے حق سے محروم کر دیا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے جلد ہی بعد اس کے چوتھے لڑکے نے، جس کو از روئے وصیت جائداد مل رہی تھی، اپنے باپ کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں اس کے باپ نے اپنی پسندیدہ برساتیوں میں سے ایک برساتی اوڑھ رکھی تھی۔ وہ سراپا احتجاج دکھائی دیتا تھا اور دوران گفتگو بار بار برساتی نما کوٹ کی اندرونی جیب کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ نیند کھلی تو لڑکے نے اپنے باپ کی اس کوٹ کو، جو اس کے خواب کے درمیان پہن

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page