موت کے اُس پار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳
رکھا تھا۔ نکالا اور اس کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جیب میں باپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک وصیت نامہ موجود تھا۔ اس کے تحت پچھلی وصیت کو منسوخ کرتے ہوئے بقیہ تینوں لڑکوں کو بھی حق دیا گیا تھا کہ وہ ہونے حصہ کی جائیداد وصول کر سکتے ہیں۔ باپ نے موت سے تھوڑی دیر پہلے جائیداد کی وراثت کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل لیا تھا۔ اس نے دوبارہ اپنا وصیت نامہ تیار کرایا اور اس کو مکمل کر کے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس سے پہلے کہ اپنے تمام لڑکوں کو اس تبدیلی فیصلہ سے آگاہ کرے، انتقال کر گیا۔ ظاہر ہے کہ اس واقعہ کو مردہ شخص کے سوا کوئی اور نہیں جانتا تھا۔ اس لیے یقین کرنا پڑے گا کہ وہ مرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ تھا اور اس نے اپنے لڑکے کو صورت حال سے آگاہ کیا۔
نیند ہی سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے جب کہ حادثہ وغیرہ کے موقع پر ایک شخص وقتی طور پر "مر جاتا ہے، اور پھر کچھ دیر بعد جی اٹھتا ہے۔ قدیم زمانہ سے اس قسم کے واقعات ہوتے رہے ہیں کہ ایک شخص طبی اعتبار سے مکمل طور پر گیا۔ چند منٹ بعد پھر اس کے قلب کی حرکت جاری ہوگئی۔ وہ دوبارہ "زندہ" ہو گیا۔ اس قسم کے واقعات بظاہر اس بات کا ثبوت ہیں کہ آدمی '' نے کچھ لمحات کے لئے اپنا جسم چھوڑ دیا تھا اور پھر دوبارہ اپنے جسم میں واپس آگیا۔ قدیم زمانہ میں ان واقعات کا ذکر صرف عجوبہ کے طور پر کیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں ان کو علمی انداز سے جانچا گیا تو معلوم ہوا کہ ان سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ انسان، جسم سے ماورا اپنی ایک مستقل ہستی رکھتا ہے جو اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب کہ وہ اپنے دنیوی جسم سے الگ ہو گیا ہو۔
بعض ایسے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں کہ ایک بیمار شخص آپریشن ٹیبل پر تھا۔ آپریشن کے دوران اس کے دل کی حرکت بند ہوگئی۔ طبی طور پر وہ مر گیا۔ کچھ دیر بعد اس کو ہوش آیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ "موت" کے دوران تم نے کیسا محسوس کیا۔ اس نے بتایا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنے جسم سے الگ ہو کر فضا میں تیر رہا ہوں۔ میں فضا سے اپنے جسم کو دیکھ رہا تھا جو آپریشن ٹیبل پر پڑا ہوا تھا اور اس کے گرد ڈاکٹر جھکے ہوئے تھے۔ اس نے اس دوران میں اپنے والی ڈاکٹروں کی بعض باتوں کو اس طرح بتایا جیسے کہ وہ "موت" کے وقت بھی ان کو دیکھ اور سن رہا تھا۔ روح اگر محض ایک جسم کا عمل (FUNCTION) ہو تو وہ جسم سے الگ ہو کر کیسے اس طرح باقی رہ سکتی ہے۔ جسم سے الگ ہو کر بھی شعور ذات کا ختم نہ ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان ایک مستقل ہستی ہے جو جسم سے علیحدگی کے بعد بھی پوری طرح باقی رہتا ہے۔
ڈاکٹر گریفیلڈ بتاتے ہیں کہ میں ایک بوڑھی عورت کا معائنہ کر رہا تھا۔ یہ عورت ہڈی کے کینسر کی مریض تھی۔ اس کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ ہم نے مریضہ کے درد کو دور کرنے کی جتنی تدبیریں کیں سب بے سود ثابت ہوئیں۔ اچانک وہ بے ہوش سی ہو گئی۔ اس کے بعد جب ہوش میں آئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے اس کو بہت افاقہ ہو گیا ہو۔ میں نے عورت سے اس کی اچانک تبدیلی کا سبب پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ابھی اس کی مردہ ماں اس سے ملنے آئی تھی اور اس کو بتا گئی ہے کہ بہت جلد دونوں اکٹھا ہو جائیں گی۔ اپنی ماں سے اس گفتگو کے بعد وہ بہت پر سکون ہوگئی اور تھوڑی دیر
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues