موت کے اُس پار
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴
کے بعد مرگئی ـــــــــ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مریضہ کی ماں ، اپنی موت کے بعد بھی پورے شعور کے ساتھ موجود تھی۔ ورنہ کس طرح وہ اپنی بیٹی کے پاس آتی ۔ نیز ماں کی خبر کے مطابق ٹھیک وقت پر اس کا مر جانا ثابت کرتا ہے کہ مریضہ کا تجربہ حقیقی تھا نہ کہ محض خیالی۔
قرآن کی سورہ نمبر ۵۶ میں ارشاد ہوا ہے : جب مرنے والے کی جان حلق تک آ جاتی ہے اور تم دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے۔ اس وقت تمھاری بہ نسبت ہم مرنے والے کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں ۔ مگر تم نہیں دیکھتے (واقعہ)۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو جان کی جسم سے علیحدگی سے پہلے موت کے اس پار کی بعض کھڑکیاں اس پر کھول دی جاتی ہیں۔ دوسری دنیا کا پردہ ایک خاص حد تک ، اس سے ہٹا لیا جاتا ہے ۔ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ عالم آخرت کی بعض چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے۔
ان میں سب سے عام اور کثیر الوقوع مشاہدہ اپنے مردہ عزیزوں کو دیکھنا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب کہ آدمی نزع کے عالم میں پہنچ گیا ہو۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ نزع کے وقت آدمی اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کو پکارنے لگتا ہے۔ اپنے مرے ہوئے اعزہ اور دوستوں کو وہ اس طرح آواز دیتا ہے جیسے وہ اس کے قریب کھڑے ہوں۔ راقم الحروف کی بڑی بہن طاہرہ خانم کا انتقال تقریباً ۷۰ سال کی عمر میں اگست ۱۹۷۹ء میں ہوا۔ اس وقت وہ اعظم گڑھ کے اسپتال میں تھیں ۔ انتقال کے وقت میں خود بہن کے پاس موجود نہ تھا۔ تاہم میری والدہ زیب النساء خاتون نے مجھے بتایا کہ آخر وقت میں مرحومہ کی زبان سے یہ کلمات سنے گئے ۔ ” ابا اتنی دیر سے کھڑے ہیں کوئی ان کو بیٹھنے کے لئے نہیں دیتا۔ ہمارے والد کا انتقال ۱۹۲۹ میں ہو چکا ہے۔ اس لئے لوگوں کو یہ سن کر تعجب ہوا۔ مرحومہ کی لڑکی نے کہا: ” ابا یہاں کہاں ہیں ! مرحومہ نے دوبارہ کہا: ” وہ کیا سامنے کھڑے ہیں“ اور پھر چند لمحہ بعد ان کا خاتمہ ہو گیا۔
ڈاکٹر الزبتھ کیو بلر روز نے بطور مہم یہ کام شروع کیا کہ وہ نزع میں گرفتار لوگوں سے ملیں اور آخر وقت میں ان کی آوازوں کا ٹیپ لیں ۔ انھوں نے ایک ہزار سے زیادہ ایسے لوگوں کا قریب سے مشاہدہ اور مطالعہ کیا جو عالم نزع میں گرفتار تھے۔ اور گویا موجودہ دنیا اور اگلی دنیا کے درمیان پہنچ چکے تھے۔ ان لوگوں نے انھیں بتایا کہ نزع کی حالت میں ان کے کئی ایسے دوست اور رشتہ داران کے پاس آئے جو پہلے مر چکے تھے۔ ”تاکہ سفر آخرت کے وقت ان کی امداد کر سکیں“ یہ لوگ اگر اس دنیا میں اپنے بدن کے کسی عضو سے محروم تھے تو نزع کی حالت میں انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا بدن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ مثلاً جو شخص لنگڑا تھا اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے دونوں پاؤں صحیح و سالم موجود ہیں ۔ گویا جسم میں کسی حادثہ سے کمی واقع ہو جائے تو اس کی وجہ سے اصل انسانی ہستی میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔
اس قسم کے خواب اور واقعات اگر چہ ہمیشہ سے پیش آرہے تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں پہلی بار ان کا منظم مطالعہ کیا گیا ہے، ضروری اعداد و شمار کے ساتھ ہزاروں واقعات جمع کئے گئے ہیں خاص طور پر امریکہ میں جدید ترین کلینک
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues