Al-Risala · October 1977 · page 15

BY DR. RAYMOND A. MOODY JR.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵

و سائنسی اہتمام کے ساتھ ان کا باقاعدہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان تحقیقی نتائج پر متعدد کتابیں چھپی ہیں، حال میں امریکہ سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے زندگی کے بعد زندگی :

LIFE AFTER LIFE (U.S.A. 1976)

BY DR. RAYMOND A. MOODY JR.

یہ کتاب آج کی انتہائی کثیر الاشاعت کتابوں میں سے ہو رہی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اخبارات اور رسائل میں، جدید دور میں پہلی بار، زندگی بعد موت سے متعلق سرخیاں نظر آنے لگی ہیں۔ اس سلسلے میں تحقیقی کتابوں کے خلاصے شائع کئے جا رہے ہیں۔ مثلاً نیوز ویک ۱۲ جولائی ۱۹۷۶ء، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا مارچ ۱۹۷۷ء، ریڈرز ڈائجسٹ اگست ۱۹۷۷ء، ایک امریکی میگزین (ٹائم، جنوری ۴ (۱۹۷) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "موت" کا موضوع اور موت کے بعد زندگی کا مسئلہ اچانک طور پر امریکہ کا بہت زیادہ مقبول عام موضوع بن گیا ہے۔ اجتماعات میں اب موت کا موضوع جنس اور سیاست جیسے سدا بہار موضوعات سے تجاوز کرنے لگا ہے۔ کتابوں کی ایک نئی قسم وجود میں آگئی ہے جس کو علم الموت (THANATOLOGY) کی کتابیں کہا جاتا ہے۔

آرتھر کوئسلر (ARTHUR KOESTLER) پہلے مارکسسٹ تھے، مگر اب وہ اس حد تک بدل چکے ہیں کہ انھوں نے ایک طویل محققانہ مقالہ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے "کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے؟ " IS THERE LIFE AFTER DEATH موجودہ صدی کے ربع ثانی میں آئن سٹائن، ڈی بروگلی، شروڈنگر اور ہیزن برگ نے کامیاب طور پر مادہ کا غیر مادہ ہونا ثابت کیا ہے۔ جو چیز دیکھنے میں ٹھوس جسم نظر آتی ہے، وہ انرجی (قوت) کا صرف ایک شدید اجتماع ہے۔ اس سے ثابت ہوا ہے کہ مادہ کے اجزاء __ الیکٹران، پروٹان، نیوٹران وغیرہ __ معروف معنوں میں مادی ذرات نہیں ہیں بلکہ وہ لہروں کی مانند ہیں۔ ڈی بروگلی کا کہنا ہے کہ ایک الیکٹران بیک وقت جسم بھی ہے اور لہر بھی۔ ثنویت (DUALISM) جدید طبیعیات کا لازمہ ہے اور (PRINCIPLE OF COMPLEMENTARITY) یعنی تکمیل اصول اس کا جدید سائنسی نام ہے ۔ (سنڈے (کلکتہ) ۳ اکتوبر ۱۹۷۶ء)

ان دریافتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آرتھر کوئسلر نے لکھا ہے کہ ذرہ / لہر (PARTICLE/WAVE) کے اصول کو مان لینے کے بعد جسم / ذہن (BODY/MIND) کے اصول کو ماننا آسان ہو جاتا ہے۔ ایک جگہ تکمیلی اصول کو مان لینے کے بعد دوسری جگہ اس کو نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ ہم پوچھ سکتے ہیں کہ جب مادہ اپنے آپ کو لہروں میں تبدیل کر سکتا ہے اور اس طرح ایک خالص غیر جسمانی انرجی (DISEMBODIED ENERGY) بن جاتا ہے تو کیا اب بھی یہ خالی از معنی ہوگا کہ یہ جسم ذہن (DISCARNATE MENTAL ENERGY) کی موجودگی کی بات کی جائے ۔ کیا ایسی گفتگو اب بھی اسی طرح بے حقیقت ہے جس طرح وہ پچاس سال پہلے معلوم ہوتی تھی جب کہ طبیعیات نے ابھی مادہ کی حیثیت کو ختم نہیں کیا تھا اور ابھی ہم کو بتایا نہیں تھا کہ ایٹم "چیز" نہیں ہیں، اور کیا اب بھی یہ معقول بات ہوگی کہ کوئی شخص ذہنی مادہ (MIND-STUFF) کی اصطلاح کو غیر سائنسی کہہ کر مذاق اڑائے جس کو ایڈنگٹن نے وضع کیا تھا۔ ڈاکٹر آئی۔ جے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page