Al-Risala · October 1977 · page 16

MATTER IS AETHEREAL AND MIND IS THE SOLID ROCK

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶

گڈنے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مادہ اثیری ہے اور ذہن ٹھوس چٹان ہے:

MATTER IS AETHEREAL AND MIND IS THE SOLID ROCK

موت کے بعد زندگی کا ثبوت ہی یہ بھی ثابت کر دیتا ہے کہ موجودہ نظر آنے والی دنیا کے علاوہ ایک اور دنیا بھی ہے۔ اگر ایسی کوئی دنیا نہیں ہے تو یہ غیر مرئی انسانی ہستیاں کہاں واقع ہیں۔ لوگ اپنے جسم کو چھوڑ کر کہاں چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس طرح بندھی ہوئی ہیں کہ ایک کا ثابت ہونا اپنے آپ دوسرے کو ثابت کر دیتا ہے۔

قرآن میں کہا گیا ہے: اور ہر چیز کو ہم نے بنایا جوڑا جوڑا۔ تاکہ تم دھیان کرو (ذاریات ۔ ۴۹) اس آیت میں اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ ہر چیز جوڑے کی صورت میں ہے۔ (نر مادہ، مثبت منفی، رات دن) ایک جزو اپنے دوسرے جزو سے مل کر اپنے کو مکمل کرتا ہے۔ یہ اس لیے تاکہ لوگ سمجھیں کہ جس طرح ہر چیز کا جوڑا ہے اسی طرح اس دنیا کے لئے بھی جوڑا ہونا ضرور ہے، یہ جوڑا آخرت ہے۔ آخرت کے بغیر یہ دنیا، موجودہ تخلیقی نظام کے مطابق کبھی مکمل نہیں ہو سکتی۔

آج دنیا کا یہ جوڑا انسانی علم میں آچکا ہے۔ اس جوڑے کا سائنسی نام اینٹی ورلڈ ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ایک طرف انسان کا مطالعہ موت کے بعد انسانی ہستی کے بقا کا تجربہ کر رہا تھا، دوسری طرف عین اسی وقت طبیعی سائنس یہ ثابت کر رہی تھی کہ ہماری موجودہ دنیا کے متوازی ایک اور دنیا ہے جو مکمل شکل میں اپنا وجود رکھتی ہے، ہماری موجودہ دنیا ورلڈ ہے اور وہ اینٹی ورلڈ۔

۱۹۲۸ء تک طبیعیات داں یہ سمجھتے تھے کہ تمام ایٹم صرف دو قسم کے ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں، مثبت برقی چارج رکھنے والے پروٹان، اور منفی برقی چارج رکھنے والے الیکٹران۔ مگر اسی سال پال ڈیر اک (PAUL A.M. DIRAC) نے ایک نئے قسم کے ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا۔ اس نے کہا " اس کا مقدار مادہ الیکٹران جیسا ہے۔ مگر وہ اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ ہم اس ذرہ کو اینٹی الیکٹران کہہ سکتے ہیں۔ ۱۹۳۲ء میں اینڈرسن (K. ANDERSON) نے اس اینٹی الیکٹران کو کاسمک شعاعوں میں دریافت کر لیا۔ اب معلوم ہوا کہ ایٹم کے ہر پارٹیکل کا ایک اینٹی پارٹیکل ہے، پروٹان ایک اینٹی پروٹان رکھتا ہے، نیوٹران ایک اینٹی نیوٹران رکھتا ہے۔ گویا کائنات کے تمام ذرات جوڑوں کی صورت میں ہیں۔ (PAIR PARTICLES)

اب سائنسی فکر آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ عالم مادی میں جوڑوں کی یہ تقسیم الیکٹران کے ناقابل مشاہدہ ذرات سے شروع ہو کر خود مجموعہ عالم تک پہنچ جاتے ہیں۔ الیکٹران کا اینٹی الیکٹران ہے، ایٹم کا اینٹی ایٹم، میٹر کا اینٹی میٹر، حتیٰ کہ ورلڈ کا اینٹی ورلڈ ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہماری دنیا میں تمام اینٹی پارٹیکل غیر قائم (UNSTABLE) حالت میں ہیں۔ مگر اینٹی ورلڈ میں وہ سب قائم (STABLE) حالت میں ہوں گے کیونکہ تمام ایٹموں کے نیو کلیس منفی برقی چارج رکھتے ہوں گے اور تمام الیکٹران مثبت برقی چارج۔ اس قسم کے ایک اینٹی ورلڈ کا امکان پہلی بار ۱۹۳۳ میں ڈیراک نے اپنے لکچر میں بتایا تھا۔ اب سائنس داں عام طور پر اس کو تسلیم کرتے جا رہے ہیں۔ سوویت یونین کے ڈاکٹر

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page