MATTER IS AETHEREAL AND MIND IS THE SOLID ROCK
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷
گسٹاف نان (GUSTAV NAAN) نے ریاضیات کے ذریعہ اس اینٹی ورلڈ کی ایسی ٹھوس احاطہ بندی کردی ہے کہ اب اس کے مخالفین تک اس کو انتہائی زبردست قسم کا متوازن تصور ماننے لگے ہیں ۔
اپنی دنیا میں دور کی چیزوں کو ہم فوٹان کی مدد سے پہچانتے ہیں جو کہ برقی مقناطیسی شعاعوں کے ذرات ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ بھی اسی قسم کے فوٹان کا اخراج کرتی ہوگی جو کہ بیک وقت پارٹیکل بھی ہے اور اینٹی پارٹیکل بھی ۔ اینٹی ورلڈ ، وہ دور ہو یا نزدیک ، اس کی روشنی فوٹان کی شکل میں ہو سکتا ہے کہ مسلسل ہم تک پہنچ رہی ہو ۔ مگر ہم اس کو اپنے پازیٹو ورلڈ کی روشنی سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کے درمیان کیا رشتہ ہے ، کیا دونوں کے درمیان کوئی مواصلاتی سلسلہ ہے جس کے ذریعہ ہماری دنیا اینٹی ورلڈ سے تعلق قائم کرتی ہے ۔ سائنس دانوں کا جواب اثبات میں ہے ۔ ڈاکٹرنان کا خیال ہے کہ بلیک ہول اور وائٹ ہول کو ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کے درمیان ایک مقامی واسطہ (LOCAL CHANNELS) سمجھنا چاہئے۔
بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ ہم سے الگ اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے تخلیق کے بارے میں عظیم دھماکہ (BIG BANG) کا نظریہ فرض کرتا ہے کہ اسے ۲۰ بلین سال پہلے سارا مادہ منجمد حالت میں ابتدائی ایٹم کی صورت میں تھا اور فوٹان انرجی پر مشتمل تھا۔ قیاس ہے کہ فوٹان ، ایک عظیم دھماکہ کے ساتھ میٹر اور اینٹی میٹر کی صورت میں مجتمع ہو گئے اور ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کو بنانے کے لئے الگ الگ ہو گئے ۔ اسی بنیاد پر ہینز الفوین (HANNES ALFVEN) نے ۱۹۶۳ میں تفریقی میکانزم (SEPERATION MECHANISM) کا امکان ظاہر کیا جس کے ذریعہ ایک ہی کہکشاں میں میٹر اور اینٹی میٹر دونوں موجود رہتے ہیں۔ سائنس یہاں پہنچ کر خاموش ہو جاتی ہے اور اسے خاموش ہو جانا چاہئے ۔ کیونکہ اس کا دائرہ تحقیق صرف وہ واقعات ہیں جو قانون طبیعی کے تحت ظہور میں آتے ہیں۔ ماورائے طبیعیات چیزوں کے بارے میں وہ ہمیں کوئی قطعی بات نہیں بتا سکتی ۔ تاہم اس نے تسلیم کرکے ہمارے لئے مزید تحقیق کا دروازہ کھول دیا ہے کہ استنباط (INFERENCE) بھی ایک جائز ذریعہ علم ہے بشرطیکہ وہ ثابت شدہ واقعات کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں اگر ہم یہ استنباط کریں کہ دوسری دنیا ، جہاں مرنے کے بعد انسان پہنچ رہا ہے ، غالباً وہی ہے جس کو سائنس نے اینٹی ورلڈ کا نام دیا ہے تو خالص علمی اعتبار سے اس کو نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی ۔ موجودہ معلوم دنیا میں جو صورت حال ہے ، وہ بھی یہی ہے۔ سائنس کی پہنچ دنیا کے کیفیاتی پہلوؤں تک ہے۔ کیمیاتی پہلو اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ سائنس ہمیں پھول کی خبر دیتی ہے ، مگر وہ خوشبو کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔ وہ ہمیں اشیاء کا پتہ دیتی ہے مگر ان کے حسن سے ہمیں مطلع نہیں کرتی ۔ وہ انسان سے ہمارا تعارف کراتی ہے مگر انسانی شعور کے بارے میں اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر وہ ہمیں " اینٹی ورلڈ " کی خبر دے مگر اس کی خوشبو " اس کے " حسن " ۔ اس کے " شعور " کو بتانے سے عاجز ہے تو اس پر ہمیں تعجب نہ کرنا چاہئے۔ یہ خلا ہم اپنے استنباط کے ذریعہ اسی طرح پر کر سکتے ہیں جس طرح ہم موجودہ معلوم دنیا کے بارے میں آج بھی کر رہے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues