م۔ احمد ایم۔ لے
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۵۹
لئے اتنے ہی ضروری ہو سکتے ہیں جتنا کہ ماہرین تو اززن فطرت بتاتے ہیں۔ مگر یہ ایک انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں صرف پ ۲ ارب بیرل تیل کا ذخیرہ اور رہ گیا ہے اور مانگ کا یہ حال ہے کہ دن بدن بڑھتی جارہی ہے ۔
حکومت ہند نے ۱۹۵۲ میں ایک قومی جنگلاتی پالیسی وضع کی تھی جس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ ۳۰ ارب روپے کا ہوا ہے۔ جنگلات کاٹ کر جو زمین زیر کاشت لائی جارہی ہے، وہ اکثر زراعت کے لئے غیر موزوں ہے۔ اس سے زیادہ موجودہ زمین پر زیادہ گھنی کھیتی کرکے حاصل کیا جاسکتا تھا۔ (ترجمہ)
الرسالہ کوئی کاروبار زریں۔ اس کا مقصد اسلام کا احیاء اور ملت کی تعمیر ہے۔ ملت اسلامیہ کے مستقبل کو بدلنے کے لئے اس قسم کی اشاعتی مہم جتنی ضروری ہے، اتنی ہی یقینی یہ بات ہے کہ الرسالہ جیسے پرچہ کو تجارتی بنیادوں پر نہیں چلایا جا سکتا۔ الرسالہ کی مہم کو مسلسل جاری رکھنے اور اس کو کامیابی تک پہنچانے کی صورت صرف یہ ہے کہ ہم کو خصوصی معاونین کی ایک معقول تعداد حاصل ہو جائے۔ عمومی اصلاح کا یہ کام خصوصی تعاون ہی کے ذریعہ انجام پاسکتا ہے۔ تعاون کی صورتیں ۱- کچھ لوگ اس کے لئے تیار ہو جائیں کہ پانچ سال تک وہ الرسالہ کا زر تعاون کم سے کم ایک ہزار ایک روپیہ سالانہ ادا کریں گے ۔
۲- ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی تیار ہو جو پانچ سال تک الرسالہ کا نہ تعاون کم سے کم ایک سو ایک روپیہ سالانہ ادا کرے نوٹ: زر تعاون کی ان دونوں صورتوں میں وہ لوگ بھی شریک ہو سکتے ہیں جو مجوزہ رقم کو یک مشت دینے کے بجائے ماہانہ اقساط کی صورت میں ادا کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues