فطرت کو اس کی تلاش کے جواب مل گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
فطرت کو اس کی تلاش کے جواب مل گیا
مسٹر الطاف گوہر پاکستان کے چوٹی کے صحافی ہیں۔ وہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر تھے۔
بھٹو حکومت (۷۱ء - ۱۹۷۱) نے اپنے اقتدار کے ابتدائی زمانہ میں الطاف گوہر کو جیل خانہ میں ڈال دیا، جیل کا مطلب، سیاسی قیدیوں کے لئے، اپنے میدان عمل سے محرومی کا ہم معنی ہوا ہے۔ ایسی حالت میں عام طور پر سب سے بہتر مشغلہ یہ رہ جاتا ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں مصروف کرلے۔ الطاف گوہر نے قرآن کو ترجمہ کی مدد سے پڑھنا شروع کر دیا۔
یہ مطالعہ، حیرت انگیز طور پر، ان کے لئے ایک نیا تجربہ ثابت ہوا۔ وہ زندگی کی نئی وسعتوں سے آشنا ہوئے جس سے اب تک وہ، اپنی سیاسی مشاغل کی ہماہمی میں بے خبر رہے تھے۔ وہ شخص جس کا قلم چند دن پہلے تک عالمی سیاست کا جائزہ لیا کرتا تھا، جو اپنی خدا داد ذہانت کے ساتھ قلم کا شہ سوار بنا ہوتا تھا، جیل خانہ میں اس نے اپنے آپ کو اچانک بالکل بے بس پایا۔ اس کی دنیا ایک محدود کوٹھری تھی جہاں اس کی اپنی ذات کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ تنہائی کی زندگی، ہر معاملہ میں دوسروں پر انحصار۔ تمام ظاہری سہاروں کا رخصت ہو جانا، ان واقعات نے جیل کے ماحول کو الطاف گوہر کے لئے ایک عظیم حقیقت کے ادراک کی تربیت گاہ بنا دیا۔ ان کی فطرت، غیر ارادی طور پر، ایک ایسی ہستی کو تلاش کرنے لگی جو ہر طاقت سے بڑھ کر طاقت ور ہو۔ جس کو آدمی ہر آن پا سکتا ہو۔ جو ہر حال میں آدمی کی چٹان بن سکے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ حالات اس کو دھکیل کر ایسے مقام پر پہنچا دیں جہاں اس کے اپنے کمزور وجود کے سوا کوئی اس کے پاس نہ ہو، جہاں اس کے تمام سہارے اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں۔ اس نازک لمحہ میں جب مسٹر الطاف گوہر نے قرآن کی سورہ فاتحہ کھولی اور اس کو پڑھتے ہوئے اس فقرہ تک پہنچے : اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ، تو اچانک ان پر کھلا کہ وہ ہستی فی الواقع کائنات میں موجود ہے جس کی تلاش ان کی فطرت کا سب سے بڑا سوال بنی ہوئی تھی۔ سورہ کی آیت مبہم میں ان کو انسان کی حقیقی عظمت اور آزادی کا راز مل گیا۔ یہاں بندہ اپنے خدا کے ساتھ ایک ایسے ابدی عہد میں وابستہ نظر آیا جو مکمل طور پر اس کے عجز کا بدل بن جاتا ہے، جو اس کو ایک اتھاہ طاقت کی دائمی سر پرستی میں دے دیتا ہے الطاف گوہر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
I REMEMBER VIVIDLY THE MOMENT WHEN I FIRST REALIZED THE SIGNIFICANCE OF THIS VERSE. 'WE WORSHIP YOU ALONE, AND TO YOU ALONE WE TURN FOR HELP.IT WAS A DRAMATIC MOMENT OF FREEDOM,A MOMENT IN WHICH FEAR DIS- APPEARED, AND WITHIN ME I FELT A RESURGENCE OF CONFIDENCE AND FAITH. مجھے وہ لمحہ خوب یاد ہے جب کہ میں نے پہلی بار اس قرآنی فقرہ کی معنویت کو سمجھا " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم صرف تجھی سے مدد چاہتے ہیں " یہ آزادی کا ایک ڈرامائی لمحہ تھا، ایک ایسا لمحہ جس کے بعد خوف مٹ گیا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ میرے اندر ایک نیا اعتماد ویقین ابھر آیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues