فطرت کو اس کی تلاش کے جواب مل گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۴
عصو یاتی ارتقار کے مطابق زندگی کی مختلف شکلیں الگ الگ پیدا نہیں ہوئیں ، بلکہ سب ایک ہی ابتدائی جراثومہ حیات کی مختلف ترقی یافتہ صورتیں ہیں جانوروں میں سے دودھ پلانے والے جانوروں کی بعض قسموں نے ترقی کرتے کرتے بالآخر انسان مانس کی شکل اختیار کی ۔ اس کے بعد لاکھوں برس تک مختلف انسان نما مخلوقات پیدا ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ انسان بنا جس کو ہم آج دیکھتے ہیں ۔ اس نظریہ کی سب سے بڑی بنیاد تجرد ڈھانچے (FOSSILS) ہیں۔ قدیم زمانہ کی ذی حیات اشیاء زلزلوں وغیرہ میں زمین کی تہوں میں دب گئیں۔ پھر مختلف کیمیاوی عمل سے ان کے پنجر پتھر کی شکل اختیار کر گئے۔ انہیں پتھرائے ہوئے اجزاء کے ذریعہ قدیم زمانہ کے انسانوں کی تاریخ مرتب کی گئی ہے ۔ اس نظریہ کے حق میں اگر چہ ابھی تک چند منتشر ہڈیوں کے سوا اور کوئی چیز نہیں ملی ہے ، مگر نظریہٴ عضو یاتی ارتقار کا نظریہ جو سائنسی حقیقت سے زیادہ ایک سائنسی لطیفہ ہے ذیل کی تصویر نیچرل ہسٹری میو زیم (تاریخ فطرت کے عجائب خانہ) سے لی گئی ہے ۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ موجودہ انسان سے پہلے بن مانس کی شکل کی مخلوق زمین پر پائی جاتی تھی ۔ اس سے ترقی کرتے کرتے موجودہ شکل وصورت کا انسان بن گیا۔ ایک آدمی اس طرح کے کسی چارٹ کو دیکھ کر بیٹھا ہر سمجھے گا کہ ارتقار فی الواقع کوئی تاریخی واقعہ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تصویریں محض قیاسی ہیں ۔ عالم واقعہ میں ان کا وجود ثابت نہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues