فطرت کو اس کی تلاش کے جواب مل گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۴
ارتقاءءء کے علماء کو اس پر اتنا یقین ہے نہ انہوں نے انھیں منتشر ہڈیوں کے ساتھ اپنے قیاس کا اضافہ کرکے انسانیت کی ایک مکمل ارتقائی تاریخ بناڈالی ہے۔ بعض اوقات چٹان میں دبی ہوئی ایک کھوپڑی ملتی ہے۔ پتھروں سے کاٹ کر نکالنے میں اس کے ریزے ریزے ہوجاتے ہیں۔ کئی ٹن سنگ ریزے اور مٹی کو چھاننے کے بعد جب کھوپڑی کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تلاش کرنے والوں کو کھوپڑی کا صرف ایک حصہ ملا ہے اور وہ بھی چار سو ٹکڑوں کی شکل میں۔
نظریہ ارتقار کی تاریخ دلچسپ لطیفوں سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر برطانوی سائنس داں ٹی ۔ ایچ۔ ہکسلے (۱۸۹۵ ۔ ۱۸۲۵) اور جرمن پروفیسر پرپز ایریا مرے سے۔ زیرِ اَسماں اور دُھن سے ایسا اِیہام خیز کا اِنکشاف تھا) مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ محض ایک غلط فہمی تھی۔ اصل یہ ہے کہ سمندری بگلوں کی ایک قِسم ہے جس کی چونچ اتنی مضبوط نہیں ہوتی کہ وہ سیپ کو توڑ کر اندر دبا ہوا گھونگھا کھا سکے۔ آسٹریلیا کے ساحل پر سیپ بافراط پائی جاتی ہے۔ سمندری بگلا اس مشکل کا حل قدرت کے بتائے ہوئے طریقہ پر کرتا ہے۔ وہ سیپ کو اپنی چونچ میں پکڑ کر کافی بلندی تک جاکر ساحلِ پر واقع چٹانوں پر گرا دیتا ہے۔ نتیجہ میں سیپ ٹوٹ جاتی ہے اَور گھونگھا باہر نکل آتا ہے جسے سمندری بگلا ایک ہی نوالے میں ہڑپ کر جاتا ہے۔ برسہا برس سے جمع شدہ خالی سیپوں کے یہ ڈھیر جب ماہرین نے دیکھے تو انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ کسی قدیم تہذیب کا نشان ہے، حالاں کہ اس ارنسٹ ہیکل (1919ء - 1834ء) نے جب پہلی بار سمندر کی تہ کی کیچڑ کا معائنہ کیا تو انھوں نے پورے یقین کے ساتھ اعلان کر دیا نہ یہی وہ مادہ ہے جس سے زندگی کے ابتدائی جراثومہ کا آغاز ہوا۔
اس کے بعد 1870ء میں جغرافی سوسائٹی نے اس مسئلہ کی علمی تحقیقات کی تو اس کو اعلان کرنا پڑا کہ یہ بالکل باطل ہے اس قسم کے مفروضہ کے لئے کوئی حقیقی قرینہ نہیں ملتا۔ حتی کہ علم الانسان کے ایک پروفیسر نے کہا کہ یہ خود فریبی (SELF DELUSION) کی ایک انوکھی مثال تھی۔
آسٹریلیا کے ساحل پر ماہرین کو ایک چٹان نظر آئی جہاں خالی اور ٹوٹی ہوئی سیپوں کا ایک ڈھیر جمع تھا۔ انھوں نے سمجھا کہ وہ ایک ایسی قدیم تہذیب کی جائے وقوع پر پہنچ گئے ہیں جس کے لوگ زیادہ تر گھونگھوں کا انسانی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ارتقا کے حامیوں کا خیال ہے کہ ارتقا کی سیڑھی پر چمپینزی (بن مانس) انسان سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ جنگل میں آزاد چمپینزی تقریباً ۲۰ قسم کی آوازیں نکالتا ہے جس سے مختلف قسم کے جذبات - خطرہ، غصہ، خوشی، پسند، نفرت، وغیرہ۔ کی ترجمانی ہوتی ہے۔ چمپینزی کو تربیت دی جائے تو کیا وہ انسان جیسی آوازیں بھی نکال سکتا ہے؟ علمائے حیاتیات کے نزدیک اس کا جواب اثبات میں تھا۔ ان کے نزدیک چمپینزی کے حلق میں اس کی صلاحیت موجود تھی کہ اس کو بولنا سکھایا جا سکے۔ اسی طرح دوسری انسانی خصوصیات بھی۔ ۱۹۷۴ء میں فلوریڈا کی تجربہ گاہ میں ایک چمپینزی کو رکھا گیا۔ باقاعدہ منصوبے کے تحت اس کو ایک تربیتی کورس سے گزارا گیا۔ مگر ساری کوشش کے بعد وہ صرف
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues