فطرت کو اس کی تلاش کے جواب مل گیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹
حیاتیاتی حقائق نظریہ ارتقا کے قیاسات کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں چار الفاظ سیکھ سکا۔ اس قسم کی کوششیں پچھلے ۳۰ برسوں میں مسلسل کی جاتی رہی ہیں۔ مگر چمپینزی کے اندر انسانی اوصاف پیدا کرنے میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔
۶۰ء میں اوکلا ہاما یونیورسٹی میں کثیر رقم کے خرچ سے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا اور سات چمپینزیوں کو غیر معمولی اہتمام کے ساتھ بالکل انسانی ماحول میں رکھ کر تربیت دی گئی۔ وہ کچھ وقت لیبارٹری میں گزارتے اور اس کے بعد پروفیسروں کے گھروں میں ان کے فردِ خانہ کی طرح رہتے۔ ان کو انسانی کپڑے پہنائے جاتے، میز کرسی پر کھانا کھلایا جاتا۔ رات کو مسہریوں پر سلایا جاتا۔ انسان کے مفروضہ جدا علیٰ (چمپینزی) کو انسانی آداب کے مطابق پانی پینے کی مشق کرائی جارہی ہے۔ صفائی ستھرائی کے تمام آداب سکھائے جاتے، مگر تربیتی کورس کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ بدستور "چمپینزی" تھے۔ ان کے اندر کوئی قابلِ لحاظ تبدیلی پیدا کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی ـــــ حیاتیاتی حقائق نے ارتقائی مفروضہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
پانڈیچری سے ۱۳ میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے ترود کاری، یہاں قدیم زمانہ سے درختوں کے تنہ کی شکل کے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ عوام کا خیال تھا کہ یہ بھوتوں یا راکشسوں کی ہڈیاں ہیں جن کو کبھی وشنو بھگوان نے ہلاک کیا تھا۔ لوگ ان کے پاس جاتے ہوئے ڈرتے تھے۔ حال ہی میں ماہرین نے دریافت کیا کہ یہ در اصل فالس ہیں۔ یعنی قدیم زمانہ کے درختوں کے پتھرائے ہوئے تنے۔ اندازہ ہے کہ یہ درخت ۲۰ ملین سال پہلے پائے جاتے تھے۔ اس قسم کا ایک شجری فانسل نومبر ۷ ۱۹ء میں نئی دہلی لایا گیا اور یہاں نیشنل میوزیم میں عام نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ یہی صورت حال، بدلی ہوئی شکل میں، ارتقا پسندوں کے ساتھ پیش آئی ہے۔ انھوں نے بعض جزوی آثار پر اپنے قیاسات کا اضافہ کر کے ایک پورا حیاتیاتی نظریہ بنا لیا۔ مگر موجودہ زمانہ میں جس طرح عوامی توہمات ختم ہوتے چلے جارہے ہیں اسی طرح معلوماتِ انسانی میں اضافہ اس "سائنٹفک قیاس کی واقعیت کو بھی دن بدن مشتبہ کرتا جارہا ہے۔
اگر چہ اب بھی نصاب کی کتابوں میں قدیم نظریہ ہی پڑھایا جاتا ہے، مگر وہ دن دور نہیں جب ارتقاء کے نظریہ کو تاریخ کی الماری کے سوا اور کہیں جگہ نہیں ملے گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues