Al-Risala · October 1977 · page 35

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵

رہتا ہے جس طرح زمین کے گولے کے گرد ہوا کا ایک غیر مرئی غلاف ہے جس میں ہم سب لوگ ڈوبے ہوئے ہیں۔ ٹھیک اسےی طرح پیدا ہونے والا اپنے وقت کے ماحول میں ڈوبا ہوا پیدا ہوتا ہے۔ اسی کے اندر اس کی نشو و نما ہوتی ہے۔ ماحول کے افکار اور روایات اس کی رگ رگ میں پیوست ہو جاتے ہیں، اور اکثر اوقات ان کے خلاف سوچنا اس کے لیے دشوار ہو جاتا ہے جب آدمی پر حق کا انکشاف ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس "دین آباء" کو چھوڑنے کا مرحلہ سامنے آتا ہے۔ اس کو ان تمام غلط اثرات کو کھرچ کرا پنے اندر سے نکال نیا ہوتا ہے جو ماحول کے اثر سے اس نے قبول کر رکھے تھے۔ پھر ہر آدمی کے اندر ایک نفس ہوتا ہے، نفس مقر لذتوں کو ڈھونڈتا ہے۔ اس کے نزدیک کسی چیز کو پسند یا نا پسند کرنے کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ صحیح ہے یا غلط اچھی ہے یا بری۔ بلکہ اس کے نزدیک پسندیدگی کا معیار صرف یہ ہے کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے۔ اور اس کے ذریعے سے اس کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ آدمی اپنی جاہلی زندگی میں بہت سی ایسی چیزوں اور شوخیوں کو اپنے اندر جمع کر لیتا ہے جو اگر چہ غلط ہیں مگر اس کے نفس کو پسند آتے ہیں۔ اسی طرح وہ بہت سی ایسی ذمہ داریوں کو بھلا دیتا ہے اور انہیں ترک کر دیتا ہے جو اگرچہ اخلاقا اس کے لیے ضروری ہیں، مگر اس کے نفس کو پسند نہیں آتیں۔ اس لیے جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اس کو اپنی زندگی میں شکست و ریخت کا ایک مستقل عمل جاری کرنا پڑتا ہے، بہت سی چیزیں جو اس کو پچھلی زندگی میں نہایت عزیز تھیں انھیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اور بہت سی چیزیں جن سے اسے نفرت تھی جن سے اس کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہوتا ہے، اس طرح ایمان لانے کے بعد غلط جذبات، غلط تعلقات، اور غلط اعمال سے جدائی کی ایک مستقل مہم شروع ہو جاتی ہے زندگی کے تمام معاملات میں ناجائز طریقوں سے بچنے کا ایک پیہم عمل کرنا ہوتا ہے جو موت کی آخری گھڑی تک جاری رہتا ہے یہ ہجرت کی پہلی اور ابتدائی کلم ہے جو ماضی کے غلط عادات و اطوار سے اپنے کو پاک کرنے اور آئندہ اس طرح کی کوئی چیز قبول نہ کرنے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اس ہجرت کا ذکر قرآن میں سورہ مدثر میں کیا گیا ہے جو نبوت کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورہ ہے۔ فرمایا وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرُ (مدثر - ۵) گندگی سے ہجرت کر یعنی خیال اور عمل کی تمام برائیوں کو چھوڑ نک یہی بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل الفاظ میں واضح فرمائی ہے۔

الْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ مهاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔ یہ ہجرت الی اللہ کا ایک پہلو ہے جس میں آدمی کو تمام ناجائز چیزیں چھوڑ دینی ہوتی ہیں۔ خدا کی مرضی کے مطابق بننے کے لیے ان چیزوں سے اپنے کو پاک کرنا ہوتا ہے جو خدا کی مرضی کے کے خلاف ہیں۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جس میں آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اپنے جائز مفادات بھی خدا کی راہ میں قربان کر دے۔ ایسا اس لیے ہے کہ اسلام آدمی کو کرنے کا اتنا بڑا کام دے دیتا ہے کہ اس کے بعد پھر اسے کچھ اور کرنے کا موقع باقی نہیں رہتا۔ اس کی تو جہات اپنی ذات سے ہٹ کر ہمہ تن اسلام کی طرف لگ جاتی ہیں۔ اسی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page