Al-Risala · October 1977 · page 36

ہجرت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

لیے کہا گیا ہے کہ دنیا کا اندر مومن کی صرف ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں اسیی کا کوئی حق نہیں ہے اس کا جو کچھ حق ہے وہ خدا کے یہاں ہے اور وہیں وہ اسے پائے گا۔

اسلام کو قبول کرنے کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اس کو اختیار کرلے۔ بلکہ عین اس کے ساتھ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کو اس کی طرف بلائے اور پورے معاشرے میں اس کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ دین کا یہ دوسرا تقاضا ہماری ذمہ داری کو صرف دگنا نہیں کرتا بلکہ اس کو انتہائی حد تک دشوار بنا دیتا ہے۔ اگر چہ انفرادی زندگی میں ممکن حد تک دین کو اختیار کرنا بھی کچھ آسان کام نہیں ہے۔ یہ فتنوں سے بھری ہوئی دنیا میں اپنے اختیار اور اپنے ارادہ کو صرف صحیح سمت میں استعمال کرنا ہے۔ یہ خود مختار ہو کر اپنی مرضی سے اپنے آپ کو پابند بنا لینا ہے اور موت کی آخری گھڑی تک پابند بنائے رکھنا ہے۔ مگر دین کا دوسرا تقاضا ۔ یعنی دوسرے بندگان خدا تک خدا کے پیغام کو پہنچانا اور اس کے دین کو عملاً زمین کے اوپر رایج کرنے کی جدوجہد کرنا۔ یہ اتنا گراں بار تقاضا ہے کہ اس کا تصور بھی آدمی کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم اور جاں گسل کام ہے جو اس کی ساری قوت اور اس کا سب کچھ مانگتا ہے۔ دعوتِ حق اور اشاعت دین کے علاوہ کسی کام میں وہ جتنا وقت اور قوت بھی صرف کرے گا اُس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے بقدر وہ اصل فریضہ کی ادائیگی میں کمی کر رہا ہے۔

آدمی جب اس حیثیت سے دین کو قبول کرتا ہے تو وہ فوراً محسوس کرتا ہے کہ اس کام میں اپنا حصہ ادا کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میں اور کچھ نہ کروں۔ وہ اپنے لیے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں پاتا کہ اپنی ضرورتوں کو انتہائی حد تک مختصر کر دے۔ دنیا کے اندر اپنی تمناؤں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے اور اپنی ذات کے لیے کم سے مصروف رہ کر حق کی زیادہ سے زیادہ خدمت انجام دے۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ بالکل ناگزیر ضروریات کی فراہمی کے بعد جو وقت بھی ملے اس کو شہادت دین کی راہ میں لگادے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کو اپنی انفرادی زندگی میں اختیار کرنا ہو تو صرف حرام چیزوں کو چھوڑ کر بھی کوئی شخص دیندار بن سکتا ہے مگر اسلام کو اجتماعی زندگی میں قائم کرنے کی مہم شروع کیجیے تو آپ کو بہت سی حلال چیزوں سے بھی دستبردار ہونا پڑے گا۔ اس کے بغیر صحیح طور پر اس کام کی ابتدا بھی نہیں کی جاسکتی۔ اس کو انجام تک پہنچانا تو بہت دور کی بات ہے۔

پہلی صورت میں آدمی کے اوپر صرف اس کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے اور دوسری صورت میں وہ ساری خلق تک پیغام حق پہنچانے کا ذمہ دار بن جاتا ہے۔ یہ چیز آپ کی مصروفیتوں اور دقتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے اس کا تقاضا ہے کہ آپ اسلام کے برحق ہونے اور اس کے سوا دوسرے تمام افکار و نظریات کے ناحق ہونے کے بے پناہ یقین پیدا کریں تاکہ آپ اس کے پر جوش مبلغ بن سکیں ۔ آپ کو اسلام کا تفصیلی علم حاصل کرنا ہے تاکہ دوسروں کے سامنے اس کو واضح انداز میں پیش کر سکیں ۔ آپ کو ان غلط افکار و نظریات کے خلاف دلائل فراہم

‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues

Printed page