ہجرت
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
کرنے ہیں جنجھوں نے انسانی ذہنوں کو متاثر کر رکھا ہے تاکہ باطل کو چھوڑ کر لوگوں کو حق کی طرف آنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ آپ کو ایک ایک شخص تک پہنچنا ہے اور اس کی نفسیات، اس کے حالات اور اس کی قوت فہم کے مطابق اسے بات سمجھانی ہے۔ آپ کو اسلامی اخلاق کا نہایت اعلیٰ نمونہ بننا ہے تاکہ آپ کی زندگی آپ کے دعوے کی تردید کرنے والی نہ ہو بلکہ اس کی صداقت پر گواہ ہو۔ بغرض فرائض کی ایک عظیم فہرست ہے جو آپ سے آپ کی پوری عمر اور آپ کا پورا اثاثہ مانگتی ہے۔ پھر ایسے فرض کو ادا کرنے کی ذمہ داری اوڑھنے کے بعد کسی دوسری چیز میں دلچسپی لینے کا موقع کہاں باقی رہتا ہے۔
یہ ہجرت کی دوسری قسم ہے یعنی دین کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنی ذات کے تقاضوں کو چھوڑ دینا جب دین کی ضروریات اور اپنی ضروریات میں ٹکراؤ ہو، جب دین کا کام آپ سے کا پورا وقت اور آپ کی ساری صلاحیتیں مانگتا ہو۔ جب دین کا تقاضا یہ ہو کہ آپ اپنی خوشی اپنا آرام اور اپنے عزیز و اقارب تک کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھیں تو آپ اپنا سب کچھ اس کے لیے قربان کردیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہ ہو جس کا تعلق آپ کو دین کی طرف جانے میں روک بن جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے۔ مومن، مہاجر اور مجاہد فی سبیل اللہ کے بلند درجات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ قُلْ اِنْ كَانَ اَبَاؤُكُمْ وَاَبْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ اے نبی کہہ دو، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ اَقْتَرَفْتُمُوهَا بھائی، تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری کے لوگ وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِيْ پڑنے کا تمہیں ڈر لگا رہتا ہے اور مکانات جو تم کو پسند ہیں سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوْا حَتَّى يَاْتِيَ اللَّهُ بِاَمْرِهِ وَاللَّهُ اگر یہ تم کو خدا اور رسول سے زیادہ محبوب ہیں اور خدا کی لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ . راہ میں جہاد کرنے کے مقابلے میں تم کو ان چیزوں سے زیادہ ( توبه - ۲۴ )
نفعنگی ہے تو انتظار کرو، یہاں تک کہ خدا کا فیصلہ آجائے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اس آیت میں جن چیزوں کا ذکر ہے وہ سب کی سب حلال ہیں اور ان میں سے کوئی بھی فی نفسہ حرام نہیں ہے مگر مومنین سے کہا گیا ہے کہ ان سب کو چھوڑ کر خدا کی طرف بڑھیں اور جو لوگ ایسا کریں وہ فاسق یعنی عہد شکن، قرار دیے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ ہمارے پیشِ رو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے کیا تھا جنجھوں نے بنی آخر الزماں کے ذریعہ اپنے رب سے یہ عہد کیا تھا کہ وہ دین کو سر بلند کرنے کی جدوجہد میں اپنی ساری قوت لگا دیں گے۔ جب صحابہ کرام کے اس عہد پر بیس سال کی مدت گزر گئی اور انھوں نے مسلسل قربانیوں کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا کہ وہ دین کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑنے کے لیے تیار ہیں تو غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد ۹ ھ میں اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں ان کی کوششوں کی قبولیت کا اعلان فرمایا:-
‹ Previous page Next page › Contents of October 1977 All issues